Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Tavassum zaria-e-marifat.

Urdu · 3 min

توسم، ذریعے معرفت۔ قرآن میں ربانی انسان کی ایک صفت توسم، سورہ نمبر 15 آیت 75 بتائی گئی ہے۔ توسم کا مطلب تفرّس ہے، یعنی ظاہری علامت کے ذریعے کسی داخلی صفت کو پہچاننا۔ صاحبِ توسم آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ چیزوں سے سبق لے سکے، وہ مادی تجربات کے دوران روحانی غذا حاصل کر سکے۔

توسم کی یہ صلاحیت معرفت کے حصول کے لیے بے حد ضروری ہے۔ جس آدمی کے اندر توسم کی صلاحیت نہ ہو، وہ یقیناً معرفت سے بھی محروم رہے گا۔ آسٹرڈیا کے عالمی تعلیمی ادارہ، یعنی Australian Institute of International Education کی طرف سے 2010 میں 60 صفحے کا ایک میگزین شائع ہوا۔ اس کے ایک صفحے پر پوری دنیا کا نقشہ، یعنی ورلڈ میپ، بڑے سائز میں چھپا ہوا ہے۔

اس نقشے میں ایک طرف سفید رنگ میں انڈیا ہے، اور دوسری طرف 10,000 میل کے فاصلے پر ہرے رنگ میں آسٹریلیا۔ ہندوستانی نقشے کے اوپر ہندوستانی نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: "تم یہاں ہو" "You are here. " اس کے بعد آسٹریلیا کے نقشے پر لکھا ہوا ہے کہ "تمہارا مستقبل یہاں ہے" "Your future is here. " آپ نے اس نقشے کو دیکھا، اس کے بعد اچانک آپ کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ انسان آج موت سے پہلے کی دنیا میں ہے، لیکن اس کا ابدی مستقبل موت کے بعد کی دنیا میں ہے۔

اپنا مستقبل تلاش کرنے کی جگہ موجودہ دنیا نہیں ہے، بلکہ وہ بعد کو آنے والی آخرت کی ابدی دنیا ہے۔ اسی انتقالِ فکر، یعنی intellectual shift، کا نام توسم ہے۔ یعنی مادی واقعات سے روحانی سبق لینا، مادی واقعات کو عارفانہ تجربے میں تبدیل کرنا۔ To convert material events into spiritual experience.

اس توسم کا سامان ہر چیز میں موجود ہوتا ہے، کوئی بھی چیز اس سے خالی نہیں۔ اگر آدمی کا ذہن، یعنی mind، بیدار ہو تو وہ ہر چیز میں توسم کے ذریعے معرفت کی غذا، یعنی spiritual food، حاصل کرتا رہے گا۔ کتاب "معرفتِ الٰہی"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 14۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.