Maulana Wahiduddin Khan
32 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

معرفت کی تاریخ

Urdu · 32 min

کائنات اور انسان کی صورت میں جو عظیم دنیا ہمارے سامنے ہے، وہ بلاشبہ ایک خدائی منصوبے کے تحت بنائی گئی ہے، اور خدائی منصوبے کے مطابق اس کا ایک بامعنی انجام ہونا مقدر ہے۔ یہ بلاشبہ سنجیدہ مطالعے کا ایک موضوع ہے۔ اس کا تعلق ہر فرد سے بھی ہے اور پوری انسانی تاریخ سے بھی۔ اس معاملے میں متعلق لٹریچر، یعنی ریلیونٹ لٹریچر کے گہرے مطالعے سے جو تصویر بنتی ہے، اس کو یہاں درج کیا جاتا ہے۔

علمی مطالعے کے مطابق اللہ رب العالمین نے موجودہ کائنات کا آغاز تقریباً 13 بلین سال پہلے کیا۔ اس مدت میں منصوبہ بند انداز میں، تدریجی یعنی گریجولی طور پر پوری کائنات وجود میں آئی۔ اس مدت کو توسیع تقسیم یعنی براڈ ڈویژن کے مطابق چھ بڑے ادوار یعنی پیریڈز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ نمبر 1: اس سلسلے میں معلوم طور پر پہلا واقعہ جو اس کائنات میں پیش آیا، وہ یہ تھا کہ خالق نے تقریباً 13 بلین سال پہلے خلا یعنی سپیس میں ایک عظیم دھماکہ مینج کیا۔

اس دھماکے کو انگلش عالم فلکیات یعنی اسٹرونومر فریڈ ہائل نے 1949 میں "بگ بینگ" نام دیا۔ یہ بگ بینگ اب سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ واقعہ یعنی اسٹیبلشڈ فیکٹ بن چکا ہے۔ اس دھماکے سے موجودہ کائنات کا آغاز ہوا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَ رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا سورہ نمبر 21، آیت 30۔

یعنی: کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں باہم ملے ہوئے تھے؟ پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اس کا مطلب سائنسی معلومات کی روشنی میں یہ ہے کہ ابتدا میں ایک عظیم گولہ یعنی سپر ایٹم تھا، جس کے اندر کائنات کے تمام پارٹیکل موجود تھے۔ اس دھماکے کے بعد بگ بینگ کے پارٹیکل وسیع خلا میں تیزی سے پھیل گئے، اور پھر ایک حکیمانہ منصوبے کے تحت مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ان ذرات یعنی پارٹیکلز کے مجموعے سے موجودہ کائنات وجود میں آئی۔

نمبر 2: مذکورہ تدریجی عمل کا دوسرا بڑا واقعہ وہ ہے جس کو "سولر بینگ" کہا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد لمبے عمل یعنی پراسیس کے تحت شمسی نظام اپنے تمام سیاروں یعنی پلینٹس کے ساتھ وجود میں آیا۔ اس کائناتی واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكِينَ يَسْبَحُونَ سورہ نمبر 21، آیت 33۔ یعنی: اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے، سب ایک ایک مدار یعنی آربٹ میں تیر رہے ہیں۔

یہ شمسی نظام ایک عظیم کہکشاں یعنی گیلیکسی کے ایک کنارے پر واقع کیا گیا ہے، جس کو ملکی وے کہا جاتا ہے۔ اس طرح شمسی نظام کو کائنات میں ایک محفوظ علاقہ یعنی ایریا مل گیا۔ اس حقیقت کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: فَلَا أُقْسِمُ بِمَا وَاقِعِ النُّجُومِ وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ سورہ نمبر 56، آیت 75 تا 76۔ یعنی: میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مواقع کی، اور اگر تم جانو تو بے شک یہ بہت بڑی قسم ہے۔

یہاں مواقع سے مراد محل وقوع ہے۔ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ شمسی نظام کو نہایت بامعنی طور پر عظیم ملکی وے کے ایک کنارے پر قائم کیا گیا ہے۔ اس محل وقوع کی بنا پر شمسی نظام کو ایک محفوظ علاقہ یعنی سیف ایریا مل گیا، جو انسان جیسی مخلوق کی زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ نمبر 3: کائنات میں تیسرا واقعہ وہ ہے جس کو "واٹر بینگ" کہا جا سکتا ہے۔

یعنی سیارہ ارض کا ٹھنڈا ہونا، اور پھر زمین کے اوپر پانی کے ذخائر کا وجود میں آنا، اور پھر پانی کی وجہ سے ہر قسم کی زندگیوں کا پیدا ہونا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيًّا سورہ نمبر 21، آیت 30۔ یعنی: اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ تمام زندہ چیزوں کے وجود کا بڑا حصہ پانی ہوتا ہے۔

جہاں تک انسان کا تعلق ہے، انسان کا جسم تقریباً 60% پانی پر مشتمل ہے۔ Water is of major importance to all living things in some organisms. Up to 90% of their body weight comes from water. Up to 60% of the human adult body is water.

نمبر 4: چوتھا بڑا واقعہ جو زمین پر پیش آیا، وہ دنیائے نباتات کا وجود میں آنا تھا۔ اس کو پلانٹ بینگ کہا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد زمین جو پہلے خشک کرے کی مانند تھی، اب سرسبز سیارہ یعنی گرین پلینٹ کی صورت اختیار کر گئی۔ اس واقعے کا اشارہ قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَا أَنْثَجَجَا لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتَ وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا سورہ نمبر 78، آیت 14 تا 16۔

یعنی: اور ہم نے پانی بھرے بادلوں سے موصلہ دھار پانی برسایا، تاکہ ہم اس کے ذریعے سے اگائیں غلہ اور سبزی اور گھنے باغ۔ نمبر 5: اس سلسلے کا پانچواں دور وہ ہے جب کہ زمین پر مختلف قسم کی جاندار چیزیں وجود میں آئیں، کیڑے مکوڑوں سے لے کر ہاتھی اور شیر تک۔ تخلیق کے اس پانچویں فیز کو "انیمل بینگ" کہا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مختلف قسم کے بے شمار جاندار اشیاء یعنی اسپیشیز پیدا ہوئیں، جن کی واقعی تعداد اب تک نامعلوم ہے۔

8,700,000 is the latest estimated total number of species on Earth, and the most precise calculation ever offered according to a study co-authored by a researcher with the United Nations Environment Program (UNEP). Around 6. 5 million species are found on land and 2. 2 million (about 25%) of the total dwell in the ocean depths.

The report also shows that 86% of all species on land and 91% of those in the seas have yet to be discovered, described, or cataloged. نمبر 6: اس سلسلے میں چھٹا بینگ وہ تھا جس کو "ہیومن بینگ" کہا جا سکتا ہے۔ اس آخری دور میں انسان کو پیدا کیا گیا، اور نسل در نسل پھیلتا ہوا اس زمین یعنی پلانٹ ارتھ پر آباد ہو گیا۔ بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تقریباً 13 بلین سال کے دوران تمام تخلیقی واقعات منصوبہ بند انداز میں پیش آئے۔

اس کا مقصد یہ تھا کہ آخر کار انسان کو پیدا کر کے اس کو زمین پر آباد کیا جائے، اور پھر انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی آزادانہ کوشش سے اس چیز کو وجود میں لائے جس کو تہذیب یعنی سویلائزیشن کہا جاتا ہے۔ تہذیب گویا محدود معنی میں کلمات اللہ (سورہ نمبر 31 آیت 27، سورہ نمبر 18 آیت 109) کی جزئی انفولڈنگ تھی۔ فطرت کے اس طریق عمل کا یہ نتیجہ تھا کہ انسان کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنی عقل کو اعلیٰ ارتقائی درجہ یعنی ہائی لیول آف ڈیولپمنٹ تک پہنچا سکے۔ موجودہ کائنات کے دو حصے ہیں: انسانی دنیا یعنی ہیومن ورلڈ، اور دوسرے غیر انسانی دنیا یعنی نان ہیومن ورلڈ۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر انسانی دنیا خارجی طور پر مینج کی جانے والی دنیا یعنی ایکسٹرنلی مینجڈ ورلڈ ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی دنیا خود مینج کی جانے والی دنیا سیلف مینجڈ ورلڈ ہے۔ اب تاریخ ایک ایسے اعلیٰ ترقی یافتہ دور یعنی سپر ڈیولپڈ ورلڈ کی طرف جا رہی ہے، جہاں ماضی کے ریکارڈ کے مطابق غیر مطلوب انسانوں کو چھانٹ دیا جائے، اور مطلوب انسانوں کو الگ کر کے یہ موقع دیا جائے کہ وہ آئیڈیل ورلڈ میں ابدی راحت کی زندگی گزاریں۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے: "صادقین زمین کے وارث ہوں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

" The righteous will inherit the land and dwell in it permanently. سام چیپٹر نمبر 37، ورس نمبر 29۔ بائبل میں مذکور اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الْزَبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ سورہ نمبر 21، آیت 105۔ یعنی: اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔

یہ دنیا پوری تاریخ بشری کے منتخب انسانوں کا معاشرہ ہوگا۔ یہ منتخب افراد دراصل دور ماضی کے تربیت یافتہ افراد یعنی ٹرینڈ انڈیویجولز ہوں گے۔ یہاں پوری تاریخ کے منتخب افراد یعنی سلیکٹڈ پیپل آف ہسٹری کو یہ موقع ہوگا کہ وہ اعلیٰ فکری سرگرمیوں یعنی ہائی لیول آف انٹلیکچول ایکٹیویٹیز کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اس اعلیٰ معاشرہ یعنی ہائی سوسائٹی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ والشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سورہ نمبر 4، آیت 69۔

یعنی: یہ اہل جنت ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت! اس اگلے دورِ حیات کو قرآن میں جنت یعنی پیراڈائز کا نام دیا گیا ہے۔ انسان کائنات کا ہیرو ہے۔

اپنی تخلیقی صلاحیت کے اعتبار سے انسان ایک ابدی مخلوق ہے، لیکن انسان موجودہ دنیا میں صرف محدود مدت کے لیے رہتا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی ایوریج عمر تقریباً 70 سال ہے۔ ابدیت کا طالب انسان عملاً ابدیت کو پانے سے محروم رہتا ہے۔ مگر انسان کے لیے یہ محرومی کی بات نہیں۔

ایسا خالق کے تخلیقی پلان کی بنا پر ہوتا ہے، نہ کہ انسان کی اپنی خواہش کی بنا پر۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کو اس دنیا میں صرف محدود مدت تک کے لیے رہنا ہے۔ اس کے بعد انسان کو اس کے ہیبیٹٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے، جہاں اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنی پسند کی دنیا میں ابدی طور پر رہے۔ یہاں انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خالق کے پلان کو جانے اور اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرے۔

انسان کو پیدا کرنے والا خدا ہے، لیکن اپنے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنا مکمل طور پر انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اندر اس پرسنالٹی کو ڈیولپ کرے جس کی وجہ سے وہ اگلی دنیا میں بننے والی پیراڈائز کے لیے مستحق امیدوار یعنی ڈیزرونگ کینڈیڈیٹ قرار پائے۔ اس تخلیقی مقصد کی بنا پر ایسا ہوا کہ خالق نے پوری کائنات کو کسٹم میڈ کائنات یعنی کسٹم میڈ یونیورس بنایا۔ اس واقعے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِن.

سورہ نمبر 45، آیت 13۔ یعنی: خدا نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے۔ آیت میں "جمیعًا منه" کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ تسخیر کا یہ معاملہ اتفاقی طور پر نہیں ہوا، بلکہ وہ خالق کے باقاعدہ منصوبہ یعنی ویل کونسڈرڈ پلان کے تحت ہوا ہے۔ انسان اس پوری کائنات میں ایک خصوصی تخلیق کی حیثیت رکھتا ہے۔

انسان کو اس کے خالق نے دماغ یعنی مائنڈ دیا، جو کسی بھی دوسری مخلوق کو عطا نہیں ہوا۔ انسان کو اس کے خالق نے لامحدود صلاحیتیں دی ہیں۔ مزید یہ کہ انسان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو امانت الہی (الاحزاب 72) سے سرفراز کیا گیا۔ انسان واحد مخلوق ہے جس کو کامل آزادی یعنی ٹوٹل فریڈم دی گئی ہے۔

انسان کے لیے یہ مقدر کیا گیا ہے کہ اگر وہ آزادی پا کر اس کا غلط استعمال یعنی مس یوز نہ کرے، بلکہ آزادی کو وسیع تر تخلیقی نقشہ یعنی کریشن پلان آف گاڈ کے مطابق استعمال کرے، تو اس کے لیے ابدی جنت یعنی ایٹرنل پیراڈائز کا انعام یعنی ریوارڈ ہے۔ مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے سوا جو دوسری مخلوقات ہیں، مادیات، نباتات، حیوانات، وہ سب کے سب فطرت کے قانون یعنی لاء آف نیچر کے ماتحت ہیں۔ حتیٰ کہ حیوانات بھی مکمل طور پر اپنی مقرر کردہ جبلت یعنی انسٹنکٹ کے تحت کام کرتے ہیں۔ یہ صرف انسان ہے جو اس معاملے میں استثنیٰ یعنی ایکسیپشن کی حیثیت رکھتا ہے۔

انسان کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنے ذاتی ارادے کے تحت سوچے اور کامل آزادی کے ساتھ اپنی زندگی کا نقشہ بنائے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان مکمل طور پر ایک آزاد مخلوق ہے، لیکن یہ آزادی صرف ذاتی عمل کے اعتبار سے ہے۔ یعنی انسان آزاد ہے کہ وہ وسیع تر نقشہ تخلیق کے مطابق عمل کرے یا اس کا باغی بن جائے۔ لیکن جہاں تک عمل کے نتیجے کا تعلق ہے، اس پر انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔

یہاں خالق نے مقدر کیا ہے کہ انسان اگر خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق عمل کرے تو اس کے لیے ابدی جنت ہے، اور اگر وہ خالق کے تخلیقی نقشے کی خلاف ورزی کرے تو اس کے لیے ابدی جہنم ہے۔ رب العالمین کے اس تخلیقی نقشے کو قرآن میں اشارات کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مادی کائنات کی تخلیق کے بعد انسان کو پیدا کیا گیا، اور اس کو زمین پر خلیفہ (البقرہ 30) کی حیثیت سے آباد کیا گیا۔ خلیفہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو انسانی زبان میں "انچارج" کہا جاتا ہے۔

فرشتے خدا کے حکم کے مطابق کائنات کا نظام اس طرح چلا رہے ہیں کہ ہمیشہ انسان کے لیے وہ ایک موافق دنیا بنی رہے۔ اس کے بعد انسان نے جب نیچر کے خفیہ رازوں کو دریافت کرنا شروع کیا اور ٹیکنالوجی پر مبنی تہذیب کی تشکیل کی، تو اس معاملے میں بھی انسان کو مسلسل طور پر فرشتوں کی مدد حاصل رہی۔ اس کا اشارہ پیغمبر نوح کی کشتی سازی کے ذکر میں اس طرح کیا گیا ہے: وَاسْنَعِلْفُ لْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِينَا سورہ نمبر 11، آیت 37۔ اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ یہی واقعہ جدید تہذیب یعنی ماڈرن سویلائزیشن کی تشکیل کے معاملے میں پیش آ رہا ہے۔

گویا خالق نے انسان سے یہ کہہ دیا کہ "اسنع الحضارة بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِينَا" یعنی تہذیب بناؤ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق۔ کہا جاتا ہے کہ اکثر سائنسی دریافتیں کسی نہ کسی اتفاق یعنی چانس کے ذریعے وجود میں آئیں۔ تفصیل کے لیے ویکیپیڈیا پر یہ مضمون دیکھا جا سکتا ہے: "Role of Chance in Scientific Discoveries" یہ اتفاقات محض اتفاقات نہیں ہیں، بلکہ وہ فرشتوں کے تعاون کی مثالیں ہیں جو غیر مرئی مدد کے طور پر سائنس دانوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ اس قسم کے اتفاق کے لیے ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے جس کو "سرنڈپٹی" کہا جاتا ہے۔

Serendipity is a happy and unexpected event that apparently occurs due to chance and often appears when we are searching for something else. Serendipity happens in our daily lives and has been responsible for many innovations and important advances in science and technology. تاریخ انسانی کے دوسرے دور میں ایک نئی دنیا بنائی جائے گی۔ یہ دنیا اسی زمین و آسمان کے اندر ہوگی، لیکن اس وقت زمین و آسمان ایک بدلے ہوئے زمین و آسمان ہوں گے۔

سورہ ابراہیم، آیت 48۔ اسی بدلی ہوئی کائنات میں جنت واقع ہوگی۔ اس جنت کا کیمپس اتنا بڑا ہوگا جتنے بڑے موجودہ زمین و آسمان۔ ال عمران 143 ہے۔

اس اعلیٰ جنت کا انتظام دوبارہ فرشتے کریں گے۔ انسان کے لیے اس جنت میں ہر قسم کی مطلوب چیزیں موجود رہیں گی۔ فصلت 31۔ جنت کی یہی وہ معیاری دنیا ہے جو منتخب لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے۔

بائبل میں ان کے لیے "صادقین" یعنی "رائچس" کا لفظ آیا ہے، اور قرآن میں اسی کا ہم معنی "صالحین" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہاں وہ اعلیٰ معرفت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ انسان کے ساتھ تخلیق کا یہ معاملہ بے حد نازک معاملہ تھا۔ یہاں ضروری تھا کہ انسان کو صحیح رہنمائی یعنی رائٹ گائیڈنس ملے، جو انسان کو خالق کے تخلیقی نقشے سے باخبر کرے اور یہ بتائے کہ انسان کے لیے اپنی آزادی کو استعمال کرنے کا درست لائحہ عمل کیا ہے۔

انسان کی یہی ضرورت ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اللہ نے انبیاء یعنی پرافٹس بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ انبیاء مکمل طور پر انسان تھے، البتہ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ خالق نے تقریباً 40 سال کی عمر تک ان کا جائزہ لینے کے بعد یہ پایا کہ وہ کار نبوت کی انجام دہی کے لیے ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے لائق یعنی کمپیٹنٹ فرد ہیں۔ اس طرح ہر نبی کی انفرادی خصوصیت کی بنا پر اس کا انتخاب کیا گیا، اور فرشتے جبرائیل کے ذریعے خالق نے اور فرشتہ جبرائیل کے ذریعے خالق نے ان کو اپنی رہنمائی وحی یعنی ریولیشن کے ذریعے بھیجی اور ان پر کتاب نازل کی تاکہ وہ خالق کے نمائندہ یعنی ریپریزنٹیٹیو کی حیثیت سے انسان کو درست رہنمائی یعنی رائٹ گائیڈنس دیں۔ اور پھر انسان ان کی رہنمائی کے مقابلے میں جو رسپانس دے، اس کے ریکارڈ کو دیکھ کر ہر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔

اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَرُسُلَنَّ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَنْ لَا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ سورہ نمبر 4، آیت 165۔ یعنی اللہ نے رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔ انذار و تبشیر کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پیغمبروں کا مشن خالص اخروی مشن تھا۔ ان کے مشن کا فوکس ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ انسان کے لیے وہ کون سا رویہ ہے جو اس کو ابدی جنت تک پہنچانے والا ہے، اور وہ کون سا رویہ ہے جو اس کو اس خطرے یعنی رسک میں ڈالتا ہے کہ اگلے دور حیات میں اس کو ابدی طور پر جہنم والوں کے ساتھ شامل کیا جائے۔

پیغمبروں کے ذریعے انسان کو جو رہنمائی ملی، اصولی طور پر اس کا خلاصہ دو چیزیں تھیں: نمبر ایک، نظریہ توحید یعنی آئیڈیالوجی آف توحید؛ نمبر دو، طریقہ کار یعنی میتھڈ۔ پیغمبرانہ طریقہ کار ایک لفظ میں غیر نزاعی طریقہ کار یعنی نان کانفرنٹیشن یعنی نان کانفرنٹیشنل میتھڈ ہے۔ نظریہ اور طریقہ کار کے اعتبار سے یہی دو چیزیں پیغمبروں کے ذریعے انسان کو دی گئیں۔ پہلے انسان یعنی آدم سے لے کر محمد ابن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر انسان کی طرف آئے۔

انہوں نے انسان کو بتایا کہ یہ زمین تمہارے لیے ابدی خیام گاہ یعنی ایٹرنل ہیبیٹٹ نہیں ہے، بلکہ یہ تمہارے لیے ایک عارضی خیام گاہ یعنی ٹیمپرری اباڈ ہے۔ یہاں تمہیں یہ موقع دیا گیا ہے کہ تم اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر کے اپنے آپ کو جنت کا مستحق یعنی ڈیزرونگ کینڈیڈیٹ بناؤ اور تاریخ انسانی کے خاتمے پر جنت کی شکل میں اپنے مطلوب ابدی ہیبیٹٹ میں جگہ پاؤ۔ ساتویں صدی عیسوی میں محمد عربی کے ظہور کے بعد انبیاء کی امد کا سلسلہ ختم ہو گیا، مگر خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان پھر بھی پیدا ہو کر زمین پر آباد ہو رہے ہیں۔ اب یہ سوال تھا کہ بعد کو پیدا ہونے والے انسانوں تک خدائی رہنمائی کی نمائندگی کون کرے؟

ساتویں صدی عیسوی میں ختم نبوت سے پہلے خدا کی طرف سے اس رہنمائی کی ذمہ داری پیغمبروں نے ادا کی۔ اس اعتبار سے تمام پیغمبر امت وسط یعنی مڈل امہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے ایک طرف اللہ رب العالمین تھا اور ان کے دوسری طرف تمام انسان۔ انہوں نے اس رہنمائی کو اللہ سے لیا اور پورے معنوں میں ناصح اور امین (الاعراف 68) بن کر اس کو انسانوں تک پہنچایا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں مدینے میں ہوئی۔ آپ اللہ کے آخری رسول تھے۔ آپ نے اپنے بعد ہدایت کے دو مستند ذریعے (اتھینٹک سورسز) چھوڑے: ایک قرآن اور دوسرا سنت رسول۔ اب کوئی پیغمبر دنیا میں آنے والا نہیں ہے، لیکن جہاں تک پیغمبر کے مشن کی بات ہے، وہ بدستور جاری ہے۔

پہلے انبیاء کی حیثیت امت وسط کی ہوتی تھی، اب پیغمبر آخر الزماں کے متبعین کی حیثیت امت وسط کی ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَتَلِّ تَكُونُوا شُهَدَاءً عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا سورہ نمبر 2، آیت 143۔ یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ امت وسط کا مطلب بیچ کی امت یعنی مڈل کمیونٹی ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین سب کے سب امت محمدی ہیں۔ ان کی حیثیت دوبارہ امت وسط کی ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پیغمبر خدا اور انسان کے درمیان امت وسط ہوتے تھے۔ اب پیغمبر آخر الزماں کے متبعین محمد ابن عبداللہ اور اقوام عالم کے درمیان امت وسط کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پیغمبر آخر الزماں کی رہنمائی کو جاننے کا ذریعہ قرآن اور سنت رسول ہے۔

امت کو یہ کرنا ہے کہ خالص موضوعی یعنی ابجیکٹو انداز میں وہ قرآن اور سنت رسول کا مطالعہ کرے اور اس کی تعلیمات کو کسی آمیزش کے بغیر پرامن انداز میں ہر دور کے انسانوں تک پہنچاتی رہے۔ یہ کام اس کو تمام اقوام کی قابل فہم زبان میں کرنا ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ سورہ نمبر 14، آیت 4۔ اس کی پریکٹیکل صورت یہ ہے کہ قرآن کے تراجم تیار کر کے ان کو ساری دنیا میں پھیلایا جائے، یہاں تک کہ حدیث مسند احمد حدیث نمبر 23814 کے مطابق وہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے۔ یہی امت محمدی کا ابدی مشن ہے۔

خلاصہ یہ کہ امت محمدی کی حیثیت سے مسلمانوں کا ایک ہی مشن ہے، اور وہ ہے دعوت الی اللہ۔ دعوت کا یہ پرامن کام مکمل طور پر غیر سیاسی یعنی نان پولیٹیکل اور غیر قومی یعنی نان کمیونل انداز میں کرنا ہے۔ مزید یہ کہ اس کام کو اس اصول کے تحت انجام دینا چاہیے جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ 60) کہا گیا ہے۔ تالیف قلب ایک ابدی اصول ہے، وہ کبھی اور کسی حال میں منسوخ ہونے والا نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.