Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

خلاصۂ کلام

Urdu · 2 min

اوپر جو کچھ لکھا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان نے اس نوعیت کا ایک بہت بڑا واقعہ کیا ہے جس کو نظریاتی سرقہ کہا جاتا ہے۔ وہ چیز جس کو جدید تہذیب کہا جاتا ہے، وہ پوری کی پوری اسی جرم کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ اس جرم میں موجودہ زمانے کی پوری آبادی شریک ہے۔ جن لوگوں نے اس تہذیب کو وجود دیا، وہ اس جرم میں براہِ راست طور پر شریک ہیں، اور بقیہ لوگ جو تہذیب کے اس جرم پر نکیر، یعنی ڈینیل، کیے بغیر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، وہ بالواسطہ طور پر اس جرم میں شریک ہیں۔

اس نظریاتی سرقہ، یعنی پلیجرزم، کے خلاف خالق کی کارروائی اب مستقبلِ بعید کی چیز نہیں رہی؛ یہ کارروائی اب عملاً شروع ہو چکی ہے۔ اس کارروائی کو ایک لفظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ خالق نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انسان کو مذکورہ جرم کی بنا پر زمین سے بے دخل کر دیا جائے۔ خالق کا یہ فیصلہ لائف سپورٹ سسٹم کے خاتمے کی صورت میں بتدریج ظاہر ہو رہا ہے۔ بظاہر وہ وقت بہت قریب آ چکا ہے جس کی پیشن گوئی قرآن کی مختلف آیتوں میں کی جا چکی تھی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.