دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے انسان کو بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے، مثلاً پانی، روشنی، آکسیجن، نباتات وغیرہ۔ ان چیزوں کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے، یعنی معاونِ حیات نظام۔ سائنس کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین پر یہ معاونِ حیات نظام خطرناک حد تک بگڑ گیا ہے۔ سائنسدان برابر یہ انتباہ دے رہے ہیں کہ زمین پر انسان کی آباد کاری بہت جلد ناممکن ہو جائے گی، یہاں تک کہ مشہور برٹش سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے اس صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کو اب خلائی بستیاں، یعنی سپیس کالونیز، بنانا چاہییں۔
حالانکہ اسٹیفن ہاکنگ اور دوسرے تمام لوگ جانتے ہیں کہ یہ تجویز عملاً ممکن نہیں۔ زمین کا وہ حصہ جس کو آرکٹک کہا جاتا ہے، یہ برف کے بہت بڑے پہاڑ کی مانند ہے جو کئی ہزار مربع میٹر کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ برفانی پہاڑ زمین پر موسم کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ آرکٹک، یعنی قطبِ شمالی کا یہ منطقہ، مختلف پہلوؤں سے زمین پر انسان کی آبادی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔
مگر 20ویں صدی کے رُبِ آخر میں، جب سے گلوبل وارمنگ کے ظاہرے نے شدت اختیار کی ہے، قطبِ شمالی کی یہ برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے۔ سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق، شاید اندیشہ ہے کہ اگلے 10 برسوں میں یہ پورا برفانی پہاڑ پگھل کر سمندروں میں چلا جائے۔ اس کی بنا پر مختلف قسم کے خطرناک نتائج پیدا ہوں گے، جو زمین کو انسان کے لیے ناقابلِ رہائش بنا دیں گے۔ اس سائنسی تحقیق کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا، 14 اگست 2012 میں حسبِ ذیل عنوان کے تحت شائع ہوا ہے: "Arctic Sea Ice May Vanish in 10 Years"، پیج 19۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.