Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

دنیا سے انسان کے بے دخلی

Urdu · 6 min

تہذیب کی ترقی کے نام پر مذکورہ سائنسی سرخہ کئی سو سال سے بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں جاری ہے، مگر اس مدت میں اہلِ تہذیب کے درمیان کوئی شخص نہیں اٹھا جو یہ اعلان کرے کہ یہ تمام تہذیبی ترقیاں خدائی قوانین یعنی ڈیوائن لاس کی بنا پر ممکن ہوئی ہیں۔ ہم کو چاہیے کہ ہم کھلے طور پر اس حقیقت کا اعتراف کر لیں: بے اعترافی کا یہ معاملہ اب اپنی آخری حد پر پہنچ چکا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے جبکہ کائنات کا خالق انسان کو زمین کے چارج سے بے دخل کر دے، اور زمین کا اور پوری دنیا کا نظام حقیقتِ واقعے کی بنیاد پر قائم کرے۔ دنیا کا یہ انجام پیشگی طور پر مقدر تھا۔

خدا نے پیشگی طور پر یہ اعلان کر دیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جبکہ انسان کو زمین کے چارج سے بے دخل کر دیا جائے، اور دنیا کا نیا نظام بنایا جائے۔ اس سلسلے میں قرآن کا ایک بیان یہ ہے: وَمَا قَدَرَ اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورہ نمبر 39 آیت 67۔ اس آیت میں "قَدَرَ" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ "قَدَرَ" کا مطلب ہے اندازہ کرنا، یعنی انسان جو کچھ دنیا میں کر رہا ہے، وہ اس لیے کر رہا ہے کہ اس نے خالق کا کمتر اندازہ، یعنی انڈر ایسٹیمیشن، کر رکھا ہے۔

یہ کمتر اندازہ کیا ہے، اس کمتر اندازے کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ سورہ نمبر 23 آیت 115۔ یعنی: کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے، اور تم ہمارے پاس نہیں لائے جاؤ گے؟ اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ یہ روایت قرآن کی مذکورہ آیت "وَمَا قَدَرَ اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ" کی مزید تشریح کرتی ہے۔

روایت کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ إِبْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَا قَدَرَ اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ هَكَذَا بِيَدِيهِ وَيُحَرِّكُهَا يُقْبِلُ بِهَا وَيُدْبِرُ يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ أَنَا الْجَبَّارُ أَنَا الْمُتَكَبِّرُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْعَزِيزُ أَنَا الْكَرِيمُ فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمِنْبَرَ حَتَّى قُلْنَا لَا يُخَرَّنَّا لَا يَخُرَّنَّا بِهِ مسند احمد حدیث نمبر 5414۔ یعنی عبداللہ ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ممبر کے اوپر قرآن کی مذکورہ آیت پڑھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئے کہا کہ اللہ اپنی تمجید خود کرے گا اور کہے گا: میں ہوں جبار، میں ہوں متکبر، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں زبردست، میں ہوں کریم۔ یہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لرزہ طاری ہوا، یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ شاید آپ گر پڑیں۔

بعض روایتوں میں ہے کہ اللہ کہے گا: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ صحیح البخاری حدیث نمبر 4812۔ یعنی: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ صحیح مسلم حدیث نمبر 2788۔ کہاں ہیں جبار، کہاں ہیں متکبر؟

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت آ گیا ہے جبکہ خالقِ کائنات ظاہر ہو اور براہِ راست طور پر دنیا کا چارج لے لے۔ اسباب کے اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ قرآن میں جس آنے والے وقت کی پیشن گوئی کی گئی تھی، وہ وقت بالکل آ چکا ہے۔ وہ وقت بالفعل آ چکا ہے۔ اس وقت کے آنے میں اب کوئی دیر نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.