Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

تاریخِ انسانی کا خاتمہ

Urdu · 7 min

12 اگست 2012 کو امریکہ کی ایک خبر تمام اخباروں میں نمایاں طور پر شائع ہوئی۔ وہ خبر یہ تھی کہ ایک امریکی صحافی کو "نظریاتی سرقہ" یعنی پلیجرزم کا مرتکب پایا گیا، اور اس بنا پر اس کو اس کے صحافتی جاب سے فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔ اس خبر کی سرخی یہ تھی: "American journalist suspended for plagiarism"۔ نظریاتی سرقہ کیا ہے؟

وہ دراصل کسی شخص کی فکری پراپرٹی، یعنی intellectual property، کا سرقہ کرنے کا نام ہے۔ نظریاتی سرقہ یہ ہے کہ کسی شخص کے آئیڈیا کو اصل مصنف کے حوالے کے بغیر اپنا بنا کر نقل کیا جائے۔ پلیجرزم: copying someone's idea without crediting the original author. میریم ویب سائٹ ڈکشنری: یہ معاملہ امریکہ کے مشہور صحافی مسٹر فرید زکریا کا ہے۔

وہ امریکی میگزین Time کے ایڈیٹر تھے، انہوں نے Time کے شمارہ 20 اگست 2012 میں اپنا ایک مضمون گن کلچر کے موضوع پر شائع کیا۔ اس کا عنوان یہ تھا: "The Case for Gun Culture"۔ The Case for Gun Control اس مضمون میں انہوں نے ایک پیراگراف شامل کیا تھا جو پورا کا پورا ایک اور شائع شدہ مضمون سے لیا گیا تھا۔ یہ دوسرا مضمون امریکہ کی ییل یونیورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر، جیل لیپور، کا تھا، جس کو مسٹر فرید زکریا نے بلا حوالہ اپنے مضمون میں شامل کر لیا تھا۔

یہ مضمون امریکہ کے ایک اخبار نیویارکر، یعنی The New Yorker، کے شمارہ 22 اپریل 2012 میں اس عنوان کے تحت چھپا تھا: "Battleground America"۔ نظریاتی سرقہ کا یہ واقعہ، جو عالمی میڈیا میں آیا ہے، وہ کوئی سادہ واقعہ نہیں؛ وہ دراصل اس قسم کے ایک زیادہ بڑے سرقہ، یعنی super plagiarism، کے لیے ایک یاد دہانی، یعنی reminder کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایک انسان کی برخاستگی کے حوالے سے یہ یاد دلا رہا ہے کہ شاید وہ وقت آ گیا ہے جبکہ کائنات کا مالک پوری تہذیب کو برخاست کر دے۔ 17ویں صدی عیسوی سے پہلے دنیا میں روایتی دور قائم تھا۔

اس کے بعد دنیا میں سائنٹیفک دور کا آغاز ہوا۔ سائنٹیفک دور سے مراد وہ دور ہے جبکہ انسان نے نیچر پر آزادانہ غور و فکر شروع کیا۔ اس غور و فکر کے بعد یہ ہوا کہ نیچر میں چھپے قوانین ایک کے بعد ایک دریافت ہونے لگے۔ مثلاً پانی میں اسٹیم پاور کی دریافت، اور مادہ یعنی میٹر میں بجلی یعنی الیکٹریسٹی کی دریافت، وغیرہ۔

جدید دنیا، خاص طور پر مغربی دنیا میں، کئی سو سال تک اس موضوع پر ریسرچ جاری رہی، یہاں تک کہ فطرت میں چھپے ہوئے ہزاروں قوانین دریافت ہو گئے۔ ان کے ذریعے ایک نئی ٹیکنالوجی بنی، اور بہت سے نئے فنی علوم وجود میں آئے۔ وہ ظاہرہ، جس کو جدید مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، اس کی تشکیل تمام تر انہی دریافت کردہ قوانینِ فطرت پر مبنی ہے۔ یہ قوانین، جو موجودہ زمانے میں معمارانِ تہذیب نے دریافت کیے، ان کو سائنسی قوانین یعنی scientific laws کہا جاتا ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ سائنسی قوانین نہیں، بلکہ وہ خدائی قوانین یعنی divine laws ہیں۔

خدائی قوانین کو نظامِ فطرت سے لینا، اور ان کو سائنسی قوانین کے نام پر اپنا بنا کر پیش کرنا، یہ بلاشبہ ایک سپر سرقہ، یعنی super plagiarism، کا کیس ہے۔ تہذیبِ جدید کے معماروں کا یہ واقعہ بھی بلاشبہ اسی قسم کا ایک سرقہ ہے۔ امریکی صحافی کا سرقہ اگر جرنلسٹک سرقہ، یعنی جرنلسٹک پلیجرزم، تھا تو معمارانِ تہذیب کا سرقہ سائنٹیفک سرقہ، یعنی scientific plagiarism ہے۔ امریکی صحافی نے تو صرف اپنے ایک آرٹیکل میں نظریاتی سرقے کا ارتکاب کیا تھا، جبکہ مغربی تہذیب کا پورا کا پورا ڈویلپمنٹ اسی قسم کے عظیم تر نظریاتی سرقے کی بنا پر ہوا ہے۔

امریکی جرنلسٹ کا سرقہ اگر صرف ایک انفرادی سرقہ تھا تو مغربی تہذیب کا سرقہ اس کے مقابلے میں ایک عالمی سرقہ، یعنی global plagiarism، کی حیثیت رکھتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.