Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

الحاد کا دور

Urdu · 12 min

شرک کا مطلب ہے کسی غیر خدا کو خدا کا شریک، یعنی پارٹنر، قرار دے کر اس کی تعظیم یا عبادت کرنا۔ موجودہ زمانے میں جب شرک کا دور ختم ہوا تو اس کے بعد یہ ہونا چاہیے تھا کہ دنیا میں توحید کا دور آ جائے، لیکن اس وقت اہلِ مغرب دنیا کے فکری قائد بنے ہوئے تھے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، قرونِ وسطیٰ یعنی مڈل ایجز کے زمانے میں مغرب کے اہلِ علم اور چرچ کے درمیان شدید ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ کی تفصیل جان ولیم ڈریپر کی درج ذیل کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے: "History of the Conflict Between Religion and Science"، 1874۔

قرونِ وسطیٰ کے بعد یورپ میں 19ویں صدی میں جدید الحادی فکر کا دور آیا۔ یہ دور کسی علمی تحقیق کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ تمام تر ردِعمل، یعنی ری ایکشن، کے نتیجے میں پیش آیا۔ اس زمانے میں علمی تحقیق کا معیار یہ قرار پایا کہ وہ تمام تر سیکولر انداز میں ہو، یعنی خدا کو حذف کر کے واقعات کی توجیہ کرنا۔ اس طرزِ فکر کے نتیجے میں وہ غیر مذہبی فلسفہ پیدا ہوا جس کو الحاد یعنی ایتھیزم کہا جاتا ہے۔

انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک توجیہ طلب حیوان، یعنی explanation seeking animal ہے۔ قدیم مشرکانہ دور میں یہ توجیہ قیاسی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ موجودہ ملحدانہ دور میں یہ توجیہ علمی تحقیق کے نام پر کی جانے لگی۔ اس نئے دور میں مغربی دنیا میں بہت سے مفکر پیدا ہوئے جو خدا کو حذف کر کے حیات اور کائنات کی توجیہ کرتے تھے۔

اس طریقِ تحقیق کے نتیجے میں ایک نیا دور پیدا ہوا۔ مزید یہ کہ اسی دور میں پرنٹنگ پریس بھی وجود میں آیا۔ پہلے کتابیں محدود طور پر ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، اب وہ چھپ کر عمومی طور پر پھیلنے لگیں۔ اس طرح یہ ہوا کہ جدید الحاد، مطبوعہ کتابوں میں منتقل ہو کر تمام دنیا کے فکر پر چھا گیا۔

جدید ملحدانہ دور میں جو مفکرین پیدا ہوئے اور ان کے ذریعے جو غیر مذہبی طرزِ فکر وجود میں آیا، اس کے پیچھے بہت سے ذہن کارفرما تھے۔ تاہم علامتی طور پر چار افراد کو اس معاملے میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان چار افراد نے انسانی تاریخ کو ایک نیا رخ یا الحادی رخ دیا۔ ان کے نام یہ ہیں: آئزک نیوٹن، چارلس ڈارون، سگمنڈ فرائڈ، کارل مارکس۔

نمبر 1: آئزک نیوٹن (From Divine Interpretation to Mechanical Interpretation)۔ نمبر 2: چارلس ڈارون (From Special Creation to Natural Selection)۔ نمبر 3: سگمنڈ فرائڈ (From Harnessing Desires to Following Desires)۔ نمبر 4: کارل مارکس (From Duty-Conscious Society to Right-Conscious Society)۔

نمبر 1: برٹش سائنسدان آئزک نیوٹن (وفات 1727) اصلًا صرف ایک سائنسدان تھا۔ اس کا موضوع تھا مادی دنیا میں حرکت یعنی موشن کی توجیہ کرنا۔ اس نے دریافت کیا کہ مادی دنیا میں حرکت کا نظام میکانیکل قوانین یعنی mechanical laws کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً شمسی نظام میں سیاروں کی گردش کا قانون، نیوٹن کی دریافت کا کوئی تعلق مذہبی عقائد سے نہ تھا۔

لیکن ملحد مفکرین نے اس دریافت کو الحاد کے حق میں استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعات فطری اسباب کے تحت پیش آتے ہیں تو وہ فوق الفطری سبب کے تحت نہیں ہو سکتے۔ "If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. " یہ استدلال بلاشبہ ایک غیر منطقی استدلال تھا، کیونکہ نیوٹن کی تشریح جس چیز کو بتا رہی تھی وہ صرف ظاہری سبب تھا۔

اس کے بعد بھی یہ سوال تھا کہ اسباب کے پیچھے مسبب یعنی cause of the causes کون ہے۔ اس معاملے میں ملحدین کا استدلال تمام تر ایک مغالطے پر مبنی تھا۔ وہ کوئی سائنسی استدلال نہ تھا۔ لیکن ملحد مفکرین کی یہ توجیہ وقت کے ذوق کے مطابق تھی، اس لیے وہ عمومی طور پر پھیل گئی۔

نمبر 2: چارلس ڈارون (وفات 1882) کا ارتقائی نظریہ بنیادی طور پر انتخابِ طبیعی یعنی natural selection کے اصول پر مبنی ہے۔ ڈارون نے اور اس کے ساتھیوں نے اپنی کتابوں کے ذریعے یہ تاثر دیا کہ ارتقاء یعنی evolution کا یہ نظریہ ایک سائنسی نظریہ ہے، مگر علمی تعریف یعنی definition کے مطابق ارتقاء کا نظریہ ہرگز سائنسی نظریہ یعنی scientific theory نہ تھا۔ وہ صرف ایک قیاسی نظریہ یعنی speculative theory کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر وقت کے عمومی ذوق کی بنا پر حیاتیاتی ارتقاء کے اس نظریے کو عام مقبولیت حاصل ہو گئی۔

یہ سمجھ لیا گیا کہ حیاتیاتی مظاہر کی توجیہ کے لیے اب خالق کو ماننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ خالق کے وجود کو مانے بغیر تمام حیاتیاتی مظاہر کی توجیہ ممکن ہے، مگر یہ صرف ایک مغالطہ تھا۔ سائنس کی مزید دریافتوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ارتقاء کا یہ نظریہ علمی اعتبار سے بالکل بے بنیاد ہے۔ سائنس کی جدید دریافت بتاتی ہے کہ فطرت میں کامل درجے کی ذہین ڈیزائن یعنی intelligent design ہے۔

اس دریافت نے علمی طور پر نظریۂ ارتقاء کا خاتمہ کر دیا ہے، کیونکہ ذہین ڈیزائن ایک ذہین ڈیزائنر یعنی intelligent designer کی موجودگی کو ثابت کرتی ہے۔ وہ بے شعور قسم کے انتخابِ طبیعی کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ نمبر 3: سگمنڈ فرائڈ (وفات 1939) کا نظریہ یہ تھا کہ انسان کی ذہنی ترقی اس طرح ممکن ہے کہ اس کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ اپنی خواہشوں کو بے روک ٹوک پورا کر سکے۔ فرائڈ کے اس نظریے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہبی تصور کے مطابق حرام و حلال کی پابندیاں ختم ہو گئیں۔

انسان آزاد ہو گیا کہ وہ خود اپنی خواہش کے تحت جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ لیکن بعد کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ فرائڈ کا یہ نظریہ ایک غیر فطری نظریہ ہے، چنانچہ وہ انسان کی ذہنی ترقی میں مانع ہے، نہ کہ مددگار۔ نفسیات کا جدید مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی ذہنی ترقی چیلنج کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ بے قید آزادی کے ذریعے۔ مذہب کی عائد کردہ اخلاقی پابندیاں ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اس چیلنج کے ذریعے انسان کے اندر تخلیقی فکر یعنی creative thinking پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح انسان اپنی توانائی کے ضیاع سے بچتے ہوئے ذہنی ترقی کے راستے پر سفر کرتا رہتا ہے۔ نمبر 4: کارل مارکس (وفات 1883) نے زندگی کا جو فلسفہ دیا، وہ اپنی عملی تدبیر کے اعتبار سے یہ تھا کہ اقتصادی ذرائع کو انفرادی کنٹرول سے نکال کر سماجی کنٹرول میں دے دیا جائے۔ مارکس کے نزدیک انسانی حقوق کے تحفظ کا یہی واحد راستہ تھا۔

مگر عملی تجربے کے لحاظ سے اس فلسفے کا مطلب یہ تھا کہ تمام اقتصادی ذرائع کو اسٹیٹ کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔ اس نظریے کا مقصد بظاہر ایک غیر طبقاتی سماج یعنی classless society پیدا کرنا تھا، مگر عملاً اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو شدید قسم کے متحارب طبقے پیدا ہو گئے۔ اس نظریے سے دو بڑی برائیاں پیدا ہوئیں: ایک یہ کہ مسابقت یعنی competition کا ختم ہو جانا، جو کہ تمام ترقیوں کے لیے فطری محرک کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری برائی جو اشتراکی نظریے کے تحت پیدا ہوئی، وہ یہ کہ لوگ عمومی طور پر right conscious بن گئے، جبکہ کسی سوسائٹی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد duty conscious ہوں۔

یہاں پہنچ کر طبقاتی کشمکش نے ایک ایسی صورت اختیار کر لی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ کیونکہ زندگی میں ڈیوٹی کا تعین ہو سکتا ہے، لیکن رائٹ کا کوئی تعین نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.