Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

دورِ شرک، دورِ الحاد

Urdu · 3 min

مذہبی نقطۂ نظر سے تاریخ کے دو دور ہیں: دورِ شرک، دورِ الحاد۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے ہزاروں سال تک دنیا میں شرک، یعنی پولیتھیزم، کا غلبہ تھا۔ موجودہ زمانہ عمومی تقسیم کے اعتبار سے الحاد یعنی ایتھیزم کا زمانہ ہے، تاہم الحاد انکارِ مذہب کا نظریہ ہے، جبکہ سیکولرزم مذہب کے بارے میں عملاً ناطرفداری کا نظریہ ہے۔

دورِ شرک اور دورِ الحاد کے درمیان ایک چیز مشترک ہے، اور وہی چیز ہے جس کو قرآن کی درج ذیل آیت میں "خرس" کہا گیا ہے: وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمَٰنُ مَا عَبَدْنَاهُمْ مَا لَهُمْ بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ سورہ نمبر 43، آیت 20۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے، ان کو اس کا کوئی علم نہیں، وہ محض اٹکل سے بات کر رہے ہیں۔ "خرس" کا لفظی مطلب ہے اٹکل سے بات کرنا۔ اس سے مراد دراصل چیزوں کی قیاسی تعبیر، یعنی speculative interpretation ہے۔

قدیم زمانے میں مشرکین نے یہی غلطی کی تھی؛ انہوں نے یہ کیا کہ فطرت کا جو ظاہرہ ان کو بڑا، یعنی great، نظر آیا، اس کو انہوں نے الہ یعنی God کا درجہ دے دیا۔ یہی چیز ہے جس کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: هَذَا رَبِّي هَذَا أَكْبَرُ سورہ نمبر 6، آیت 78۔ یعنی: یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اس قدیم myth کو توڑ دیا۔

سائنس نے اپنے تجربات کے ذریعے ثابت کیا کہ جن چیزوں کو انسان نے خدا سمجھ لیا تھا، ان کے اندر کوئی خدائیت یعنی divinity نہیں ہے۔ تمام چیزیں صرف فطرت یعنی nature کے اجزا ہیں۔ بالفاظِ دیگر، کائنات کی تمام چیزیں صرف مخلوق ہیں، وہ کسی بھی درجے میں خالق نہیں۔ مشرکانہ کلچر کے نظریاتی خاتمے کا آخری دن 20 جولائی 1969 تھا، جبکہ امریکی astronaut نیل آرمسٹرانگ 4 روزہ خلائی سفر طے کر کے چاند تک پہنچا، اور چاند کی سطح پر اس نے اپنا قدم رکھ دیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.