Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

خلاصۂ کلام

Urdu · 4 min

قدیم دورِ شرک کا بگاڑ یہ تھا کہ وہ خدا اور بندے کے درمیان تعلق کو صحیح بنیاد پر قائم کرنے میں مانع بن گیا۔ انسان کو یہ کرنا تھا کہ وہ اپنی سوچ کو، اور محبت اور خوف کے جذبات کو، مکمل طور پر خدا سے وابستہ کرے۔ اسی کا نام توحید ہے، اور اسی توحید سے انسان کے اندر تمام اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن مشرکانہ کلچر نے خدا کے شرکاء، یعنی پارٹنرز، قرار دے کر انسان کو اس کے مرکزِ اصلی سے ہٹا دیا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ انسان اپنے مطلوب ارتقاء سے محروم ہو کر رہ گیا۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک مرکزِ وابستگی چاہتا ہے۔ انسان کی اس فطری طلب کا مرجع صرف ایک ہے، اور وہ اس کا خالق ہے۔ بندے کا خالق سے تعلق قائم ہونا ایسا ہی ہے جیسے بجلی کے بلب کا پاور ہاؤس سے تعلق قائم ہونا۔

شرک کی برائی یہ تھی کہ اس نے انسان کی اس طلب کے لیے اس کو ایک غیر واقعی بدل، یعنی فالس سبسٹیٹیوٹ، دے دیا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ انسان کو اس کی فطری طلب کا مرکز نہیں ملا، اور نتیجتاً انسان اپنی شخصیت کے اس ارتقاء سے محروم ہو گیا جو اس کے لیے پیدائشی طور پر مقدر تھا۔ جدید الحاد کے دور میں دوبارہ انسان ایک اور اعتبار سے اسی محرومی کا شکار ہو گیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو علمِ قلیل دیا گیا ہے۔

الاسراء 85: انسان کے لیے آزادی بہت اچھی چیز ہے، لیکن انسان اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے کامل آزادی کا تحمل نہیں کر سکتا۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ وہ اپنی اس محدودیت، یعنی لیمیٹیشن، کو جانے اور مقید آزادی، یعنی گائیڈڈ فریڈم، پر راضی ہو جائے۔ جدید الحاد نے آزادی کو خیرِ مطلق، یعنی سمم بونم، قرار دے کر انسان کو اس کی فطرت کے راستے سے ہٹا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر ہر قسم کی ترقیوں کے باوجود انسان اس اہم ترین چیز سے محروم ہو گیا جس کو ذہنی سکون، یعنی پیس آف مائنڈ، کہا جاتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.