← Ma'rifat-e-Qur'anMa'rifat-e-Qur'an
قرآن کی تصدیق
Urdu · 6 min
قرآن کی ایک آیت ہے: أفلا يتدبرون القرآن ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافًا كثيرًا؟ سورہ نمبر 4، آیت 82۔ یعنی: کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟
اگر یہ—یعنی قرآن—اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ قرآن 7ویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا، یہ سائنس کی دریافتوں سے بہت پہلے کا زمانہ تھا۔ اس قبل دریافت زمانے میں قرآن کی اس آیت کا اترنا، گویا یہ دعویٰ کرنا تھا کہ بعد کی دریافت شدہ حقیقتیں قرآن کے عین مطابق ہوں گی۔ قرآنی بیانات اور دریافتوں کے درمیان کبھی عدم مطابقت، یعنی inconsistency، نہ ہوگی۔
اس طرح یہ واقعہ اس بات کی تصدیق ہوگا کہ قرآن عالم الغیب کی کتاب ہے، کیونکہ عالم الغیب کے سوا کوئی بھی پیشگی طور پر ان حقیقتوں کو نہیں بتا سکتا تھا۔ اس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا تصور اور ہکس بوزان کا تصور پیشگی طور پر قرآن میں موجود تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ الانبیاء کی درج ذیل آیت کا مطالعہ کیجیے: أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَ رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيًّا أَفَلَا يُؤْمِنُونَ؟ سورہ نمبر 21، آیت 30۔
یعنی: کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا؟ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے؟ قرآن کی اس آیت میں تخلیق کے تین مرحلوں کا ذکر ہے۔
پہلے مرحلے کو رتخ کہا گیا ہے۔ رتخ کا مطلب ہے منضم الاجزاء، یعنی کائنات کے تمام پارٹیکل کا باہم جڑا ہوا ہونا۔ اس میں کاسمک بال کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ دوسرے مرحلے کو قرآن میں فتخ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
فتخ کا مطلب ہے الفصل بین المتصلین، یعنی باہم ملی ہوئی چیزوں کا ایک دوسرے سے الگ ہو جانا۔ اس میں بگ بینگ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد تیسرے مرحلے میں پانی، یعنی الماء، کے بننے کا ذکر ہے۔ یہاں پانی کا ذکر علامتی طور پر ہے، یعنی پانی اور دوسری تمام چیزیں۔
پانی ایک جوہری مادہ، یعنی substance ہے۔ اس طرح کے بہت سے جوہری مادے کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ پانی ہائیڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کے ایک ایٹم کے ملنے سے بنتا ہے۔ یہی معاملہ دوسری تمام مادی چیزوں کا ہے۔
ہر چیز ایٹم کے ملنے سے بنی ہے، اور ایٹم اس وقت بنا جب کہ اس کے پارٹیکل میں کمیت، یعنی ماس، پیدا ہوئی۔ اس طرح اس آیت میں پانی کا ذکر کر کے اس نوعیت کی دوسری تمام مادی چیزوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔ یعنی فتخ کے واقعے کے بعد تمام پارٹیکل میں کمیت کا پیدا ہونا، اور پھر پارٹیکل کا مجتمع ہو کر تمام چیزوں کا وجود میں آنا۔ قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے۔
البتہ قرآن میں مظاہر فطرت کے بہت سے حوالے دیے گئے ہیں، جو کہ سائنس کا موضوعِ تحقیق ہیں۔ قرآن کا مقصد صرف یہ ہے کہ فطرت میں موجود آیات، یعنی سائنس، کا حوالہ دے کر قرآن کی آئیڈیالوجی کو علمی طور پر ثابت کرنا۔ اس طرح قرآن میں فطرت کے بہت سے مظاہر کے متفرق حوالے، یعنی fragmentary references، دیے گئے ہیں۔ ان حوالوں کے بارے میں قدیم زمانے میں کچھ معلوم نہ تھا۔
گویا کہ قرآن میں یہ حوالے مستقبل کی انسانی نسلوں کو شامل کرتے ہوئے دیے گئے تھے۔ اس طرح انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ قرآن کے ان حوالوں کا تقابل بعد کے حالات سے کر کے قرآن کی صداقت کی تصدیق حاصل کرے۔