چودھویں صدی ہجری اسلام کی پوری تاریخ میں پہلی صدی تھی، جبکہ یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ اسلام کی دعوتِ توحید کی یُسر یعنی آسانی کے حالات میں انجام دیا جائے، جبکہ اس سے پہلے صرف عُسر یعنی سختی کے حالات ہی میں اس کو انجام دینا ممکن ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ واقعہ بھی پہلی بار ہوا کہ خود انسان کے اپنے مسلمات کے مطابق اسلام کا دیگر ادیان کے مقابلے میں واحد معتبر دین ہونا ثابت کیا جائے، اور اس کو اعلیٰ ترین علمی شواہد سے اس طرح مدلل کر دیا جائے کہ کسی کے لیے انکار کا عذر باقی نہ رہے۔ نیز اس صدی میں پہلی بار تیز رفتار سواریاں اور تبلیغ کے جدید ذرائع انسان کے قبضے میں آئے، جن سے کام لے کر اسلام کے پیغام کو بین الاقوامی سطح پر پھیلایا جا سکتا تھا، مگر جو قومیں ان خدائی برکتوں کو ہماری طرف لا رہی تھیں، وہ اتفاقی حالات کے نتیجے میں ہماری سیاسی حریف بن گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساری مسلم دنیا مغرب کے بارے میں مخالفانہ نفسیات کا شکار ہو گئی۔
مغرب کی طرف سے آنے والے انقلاب کا افادی پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا، حالانکہ خدا نے مسلمانوں کے لیے ایسا دروازہ کھولا تھا کہ خود مغرب کے پیدا کردہ حالات دعوتی مقاصد میں استعمال کر کے مغرب کو نظریاتی طور پر فتح کر سکتے تھے۔ اگر مسلمانوں نے بروقت اس دانشمندی کا ثبوت دیا ہوتا تو چودھویں صدی ہجری میں وہ واقعہ دوبارہ نئے انداز میں پیش آتا، جو آٹھویں صدی ہجری میں تاتاری فاتحین کے خادمان— اگر مسلمانوں نے بروقت اس دانشمندی کا ثبوت دیا ہوتا تو چودھویں صدی ہجری میں وہ واقعہ دوبارہ نئے انداز سے پیش آتا، جو آٹھویں صدی ہجری میں تاتاری فاتحین کے خادمانِ اسلام بن جانے کی صورت میں پیش آ چکا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.