Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

انسان کی بے اختیاری

Urdu · 7 min

برٹش سائنسدان سر جیمز جینز نے اپنی کتاب "پراسرار کائنات (The Mysterious Universe)" میں انسان اور کائنات کے تعلق کے بارے میں لکھا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آ گیا ہے جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی ہے۔ It appears that man has strayed in a world which was not made for him. مگر زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آ گیا ہے جس کو اس نے خود نہیں بنایا، اور نہ وہ اس دنیا کو کنٹرول کرنے والا ہے۔

It appears that man has strayed in a world which was not made by him, and nor is he its controller. اس دنیا میں انسان کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ انسان اپنے آپ کو اس دنیا میں ایک زندہ وجود کی حیثیت سے پاتا ہے، لیکن یہ وجود ایک عطیہ ہے۔ اس نے خود اپنے آپ کو وجود نہیں بخشا۔

انسان کو صحت مند جسم چاہیے۔ صحت مند جسم ہو تو وہ بھرپور زندگی گزارتا ہے، لیکن صحت مند جسم اس کے اپنے بس میں نہیں۔ انسان کو وہ تمام چیزیں چاہئیں جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ سسٹم ہو تو انسان کامیاب زندگی گزارے گا، لیکن اس سسٹم کو قائم کرنا اس کے اپنے بس میں نہیں۔

انسان کو موافق موسم درکار ہے۔ موافق موسم ہو تو انسان امن و عافیت کے ساتھ زندگی گزارے گا، لیکن موافق موسم کو قائم کرنا انسان کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی خواہش کے مطابق ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن ہر انسان جو پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے، وہ ایک مقرر وقت پر مر جاتا ہے۔ یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ اپنے آپ پر موت کو وارد ہونے سے روک دے۔

انسان مکمل طور پر ایک ضرورت مند ہستی ہے، لیکن اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے وہ مکمل طور پر ایک خارجی طاقت کا محتاج ہے۔ انسانی زندگی کا یہ پہلو بے حد قابلِ غور ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے کامل معنوں میں ایک صاحبِ اختیار مخلوق ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت کو خود پورا کرنے پر قادر نہیں۔ انسان کی زندگی کے یہ دو متضاد پہلو، two contradictory aspects، انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے اس معاملے کی حقیقت کو دریافت کرے، اور اس دریافت کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کا نقشہ بنائے۔

انسان کا تجربہ اس کو بتاتا ہے کہ اس دنیا میں وہ صرف ایک پانے والا، یعنی taker ہے، اور دوسری طرف کوئی ہے جو صرف دینے والا، یعنی giver ہے۔ یہ نسبت انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی حقیقت کے بارے میں سوچے۔ وہ اپنی زندگی کو حقیقتِ واقعہ کے مطابق بنائے۔ وہ اپنے آپ کو اس مقام پر رکھے جہاں وہ حقیقتاً ہے، اور دوسری ہستی کے لیے اس مقام کا اعتراف کرے جس کا وہ حقدار ہے۔

مختصر الفاظ میں یہ کہ انسان اگر سنجیدگی کے ساتھ اپنے ہر معاملے پر غور کرے گا تو وہ پائے گا کہ وہ خود اس دنیا میں عبد کے مقام پر ہے، اور دوسری ہستی معبود کے مقام پر۔ یہی دریافت انسان کی کامیابی کا اصل راز ہے۔ جو انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کر کے اس حقیقت کو دریافت کر لے، وہی انسان انسان ہے۔ اس کے لیے تمام ابدی کامیابیاں مقدر ہیں۔

اس کے برعکس، جو شخص اس حقیقت کی دریافت میں ناکام رہے، وہ انسان کی صورت میں ایک حیوان ہے۔ اس کے لیے اس دنیا میں ابدی خسران، یعنی eternal loss کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو شخص اس حقیقت کو دریافت کر لے، فطری طور پر اس کا رسپانس وہی ہوگا جس کا ذکر قرآن کے ابتداء میں ان الفاظ میں آیا ہے: الحمد لله رب العالمين سورہ نمبر 1 آیت 2۔ یعنی: اس برتر ہستی کا شکر جو سارے عالم کا رب ہے، جو انسان کی تمام کمیوں کی تلافی کرنے والا ہے۔

یہ اعتراف انسان کے اندر وہ انقلاب پیدا کرے گا، جبکہ اس کے اندر اپنے رب کے لیے حبِ شدید اور خشیتِ شدید پیدا ہو جائے۔ یہی وہ فرد ہے جس کو قرآن میں مومن کہا گیا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.