Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Kaamiyaab zindagi,nakaam khaatima

Urdu · 7 min

"کامیاب زندگی، ناکام خاتمہ" ایک مغربی ملک کے ایک آدمی کو دولت کمانے کا شوق تھا۔ اس کا خیال تھا کہ دولت کے ذریعے وہ زندگی کی تمام خوشیاں حاصل کر سکتا ہے۔ اس نے کافی دولت کمائی، اس نے اپنے لیے ایک شاندار گھر بنایا، ہر طرح کی راحت اور عیش کے سامان اپنے گرد اکٹھا کیے، لیکن حقیقی خوشی اس کو حاصل نہ ہو سکی، یہاں تک کہ وہ بوڑھا ہو گیا۔ اس کی جسمانی طاقت ختم ہو گئی، وہ بستر پر پڑ گیا، اپنی زندگی کے اس آخری زمانے میں اس نے اپنی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے: "Now I'm 90+, bedridden, my story can be summed up in these two words: successful life, unsuccessful end." یہی ان تمام لوگوں کی کہانی ہے جن کو لوگ اچیور یا سپر اچیور کہتے ہیں۔

بڑی بڑی کامیابیوں والے اس دنیا میں صرف چھوٹی خوشی حاصل کرتے ہیں، اور آخر کار مایوسی کے ساتھ وہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ یہ معاملہ اتنا عام ہے کہ اس میں کسی بھی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔ انڈیا میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والوں میں سے ایک مشہور نام لتا منگیشکر کا ہے، وہ اب 80 سال کی ہو چکی ہیں۔ ان کو اپنی زندگی میں وہ تمام چیزیں ملیں جن کی لوگ حرص کرتے ہیں: دولت، شہرت، مقبولیت، اور اعلیٰ خطابات وغیرہ۔

انہوں نے عالمی سطح پر شاپنگ کی، بہت زیادہ جولری اور جواہرات حاصل کیے، ہر وہ چیز ان کے پاس ہے جس کی دنیا پرست لوگ تمنا کرتے ہیں۔ لیکن عمر کے آخری حصے میں پہنچ کر وہ محسوس کرتی ہیں کہ انہوں نے جو کچھ چاہا تھا وہ ان کو نہیں ملا۔ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا، 30 ستمبر 2007 میں، لتا منگیشکر کا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ انٹرویوور کا نام سدھشنا چٹرجی ہے۔

انٹرویوور کا نام سدھشنا، یعنی سدھشنا چٹرجی ہے۔ اس انٹرویو کے مطابق، لتا منگیشکر تمام ظاہری کامیابیوں کے باوجود افسردگی کے احساس، یعنی ڈیجیکٹڈ فیلنگ میں جیتی ہیں۔ یہ انٹرویو اخبار کے ضمیمہ، یعنی ٹائمز لائف میں، اس عنوان کے تحت چھپا ہے: "میرے خواب کبھی پورے نہیں ہوئے" "My dreams have never got fulfilled. " انٹرویوور نے لتا منگیشکر سے پوچھا کہ اگر خدا ان سے پوچھے کہ عمر کے اس حصے میں پہنچ کر ان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہوگی؟

انہوں نے کسی وقفے کے بغیر فوراً جواب دیا کہ میری صرف یہ خواہش ہوگی کہ میں اس دنیا کو چھوڑ کر چلی جاؤں۔ "I would like to leave this world." پیج 3۔ کامیاب انسانوں کی اس ناکام کہانی میں، ہر عورت اور مرد کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ وہ یہ کہ جس پر مسرت زندگی کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنی ساری عمر لگا دیتے ہیں، وہ اس دنیا میں سرے سے قابلِ حصول، یعنی اچیویبل ہی نہیں۔

تمنا کا ہونا، مگر تمنا کے حصول کا فقدان، ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی جس چیز کو قبل از موت، یعنی پری ڈیتھ پیریڈ، دنیا میں پانا چاہتا ہے، اس کو خالقِ کائنات نے بعد از موت، یعنی پوسٹ ڈیتھ پیریڈ، دنیا میں رکھ دیا ہے۔ ایسی حالت میں سب سے بڑی عقلمندی یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بعد از موت دنیا میں کامیابی کا مستحق بنائے۔ وہ موجودہ عارضی زندگی کو بعد کی ابدی زندگی کی تیاری میں لگا دے۔

انسان پیدائشی طور پر معیار پسند، یعنی آئیڈیلسٹ ہے، لیکن موجودہ دنیا میں ہر چیز معیار سے کم، یعنی لیس دین آئیڈیل، حالت میں پائی جاتی ہے۔ یہی لوگوں کے ٹینشن کا اصل سبب ہے۔ انسان اپنی پوری توانائی صرف کر کے جو کچھ حاصل کرتا ہے، انسان اپنی پوری توانائی صرف کر کے جو کچھ حاصل کرتا ہے، وہ ہمیشہ اس کے اپنے مطلوب معیار سے کم ہوتا ہے۔ طلب اور مطلوب کے درمیان اس فرق کو جاننا ہی سب سے بڑی دانشمندی ہے۔

جو آدمی اس فرق کو جانے، وہ اپنے عمل کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کرے گا، اور پھر کامیابی کی منزل تک پہنچ جائے گا۔ ایسا انسان کبھی ٹینشن میں جینے والا انسان نہیں ہوگا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 604۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.