← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Sab se bada sawal
Urdu · 7 min
سب سے بڑا سوال: انسان بہترین جسم اور اعلیٰ دماغ کے ساتھ اس دنیا میں آتا ہے، اس کے لیے سوچنے کی سب سے پہلی بات یہ ہے کہ وہ کیسے بنا۔ پھر وہ جس دنیا میں آتا ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ دنیا استثنائی طور پر اس کے لیے ایک انتہائی موافق دنیا ہے۔ یہاں وہ ایک ایسی زمین کو پاتا ہے جس پر وہ پرراحت طور پر رہے۔ یہاں سورج ہے جو مسلسل طور پر اس کو روشنی اور انرجی دے رہا ہے۔
یہاں زرخیز مٹی ہے جو اس کے لیے مختلف قسم کی غذائیں اگاتی ہے۔ یہاں وافر مقدار میں پانی ہے جو زندگی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہاں ہوا ہے جو مسلسل طور پر اس کو آکسیجن سپلائی کر رہی ہے۔ یہ سیارہ زمین جس پر انسان آباد ہے، وہ بے شمار طریقوں سے اس کا مددگار بنا ہوا ہے۔
یہاں نہایت اعلیٰ قسم کا لائف سپورٹ سسٹم ہے جس کے بغیر انسان کے لیے یہاں زندہ رہنا اور ترقی کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اس دنیا میں اتنی زیادہ نعمتیں ملی ہوئی ہیں جن کا شمار کرنا ممکن نہیں۔ ان نعمتوں میں سے صرف کچھ نعمتوں کو سائنس نے دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت کردہ نعمتیں بھی اتنی زیادہ ہیں کہ کوئی انسان ساری عمر مطالعہ کرے، تب بھی وہ کامل طور پر ان سے واقف نہیں ہو سکتا۔
یہ صورتحال اپنے آپ میں ایک سوال ہے، اتنا بڑا سوال کہ کوئی بھی عورت یا مرد ان کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ انسان کا اپنا حیرت ناک وجود اور آس پاس کی حسین دنیا مجبور کر رہی ہے کہ ہر انسان ان سوالات پر غور کرے اور ان کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ یہ سوالات گویا ایک خاموش پکار ہیں: مجھ کو کس نے بنایا؟ اس دنیا کا بنانے والا کون ہے؟
وہ کون ہے جس نے مجھ کو اتنا زیادہ بامعنی قسم کا لائف سپورٹ سسٹم پیدا کر کے دے دیا ہے؟ اس دنیا میں ہر چیز ایک نعمت ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز ایک عظیم نعمت ہے۔ اور ہر نعمت زبان حال سے پکار رہی ہے اور دعوت دے رہی ہے کہ اس معاملے پر غور کرو اور دریافت کرو کہ ان نعمتوں یعنی بلیسنگز کا منعم یعنی گیور کون ہے۔
اسی کے ساتھ ایک اور نہایت سنگین سوال ہے جو ان سوالات کے ساتھ جڑا ہوا ہے، وہ یہ کہ انسان انتہائی قیمتی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس کا دماغ معجزاتی صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔ وہ اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے لامحدود ترقی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بظاہر یہ سب کچھ ابدی معلوم ہوتا ہے، لیکن ابھی وہ اپنے سفرِ حیات کے درمیان میں ہوتا ہے کہ سو سال سے بھی کم عرصے میں کوئی نامعلوم طاقت مداخلت کرتی ہے۔
وہ اس پر موت وارد کر کے اس کو موجودہ دنیا سے اٹھا کر کسی اور دنیا میں پہنچا دیتی ہے۔ یہ تمام سوالات نہایت گمبھیر سوالات ہیں۔ وہ لازمی طور پر اپنا ایک جواب چاہتے ہیں۔ کوئی عورت یا مرد جو اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدہ ہو، وہ ان سوالات کا جواب معلوم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
ان سوالات کا صحیح جواب ہی ہماری موجودہ زندگی کی درست توجیح کرتا ہے۔ اور اسی کے ساتھ ان سوالات کا جواب ہی ہم کو یہ بتاتا ہے کہ حقیقی طور پر زندگی کو بامعنی اور کامیاب بنانے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ان سوالات پر پوری تاریخ میں غور و فکر کیا جاتا رہا ہے۔ انتہائی بڑے بڑے دماغ ان سوالات کا جواب معلوم کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم طور پر کوشش کرتے رہے ہیں۔
سب سے زیادہ جس جواب نے عالمی دماغوں کو مطمئن کیا ہے، وہ یہ کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے، وہی اس کا خالق ہے، وہی اس کا مالک ہے، وہی اس کا انتظام کر رہا ہے، وہی اپنی عظیم طاقتوں کے ساتھ اس پوری دنیا کو سنبھالے ہوئے ہے۔ پھر یہ کہ اس دنیا کو خدا نے ایک خصوصی تخلیقی پلان یعنی کریشن پلان کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس پلان کے مطابق انسان ایک ابدی مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن انسان کو پیدا کرنے والے نے اس کی زندگی کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔
اس کا بہت تھوڑا حصہ موت سے قبل کے مرحلہ حیات میں ہے اور اس کا زیادہ بڑا حصہ موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں۔ آدمی جب اس دنیا میں مرتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اگلی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے تاکہ وہ اپنی بقیہ زندگی وہاں کے ابدی ماحول میں گزارے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 602۔