← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Sochiye,Sochiye,Sochiye
Urdu · 7 min
سوچیے، سوچیے، سوچیے: اگر پہاڑ کی کوہ، یعنی cave، سے کسی دن ایک زندہ انسان نکل آئے، تو سارے دیکھنے اور جاننے والے لوگ اس کو حیرت ناک واقعہ سمجھیں گے۔ تمام لوگ یہ سوچنے لگیں گے کہ ایسا کیوں کر ہوا؟ ماں کے پیٹ سے ایک انسان کا پیدا ہونا بھی اسی قسم کا ایک واقعہ ہے، جو دہشت ناک حد تک عجیب ہے۔ لوگ ماں کے پیٹ سے زندہ انسان کو پیدا ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن وہ اس کے متعلق کچھ نہیں سوچتے۔
یہ فرق کیوں ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا روزانہ کا ایک واقعہ ہے۔ بار بار دیکھنے کی وجہ سے لوگ اس واقعے کے عادی، یعنی used to، ہو گئے ہیں۔ اس لیے وہ اس کو for granted طور پر لیے رہتے ہیں۔
وہ اس معاملے میں سوچنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ لوگ اگر اس معاملے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچیں، تو وہ انسان کی پیدائش کے واقعے میں خالق کے وجود کو دریافت کر لیں گے۔ جب وہ دیکھیں کہ ایک زندہ اور باشعور انسان پیدا ہو کر زمین پر چل پھر رہا ہے، وہ دیکھتا ہے، اور سنتا ہے، اور بولتا ہے، تو ان کو محسوس ہو کہ ہر انسان خالق کے وجود کا ایک چلتا پھرتا نشان، یعنی sign ہے۔ ہر انسان لوگوں کو اپنے خالق کا ایک زندہ تعارف معلوم ہونے لگے۔
اسی طرح انسان جب پیدا ہو کر موجودہ زمین، یعنی planet Earth، پر آتا ہے، تو وہ پاتا ہے کہ یہاں اس کے لیے ایک پورا life support system موجود ہے۔ یہ life support system اتنا مکمل ہے کہ کوئی قیمت دیے بغیر وہ انسان کی ہر چھوٹی اور بڑی ضرورت کو نہایت اعلیٰ صورت میں پورا کر رہا ہے۔ زمین سے لے کر سورج تک پوری دنیا استثنائی طور پر انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ اس کے بعد وہ دن آتا ہے جب کہ انسان اچانک مر جاتا ہے۔
انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن سو سال کے اندر ہی یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ہر عورت اور مرد اپنی مرضی کے خلاف اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ زمین پر پیدا ہونے والا ہر انسان دو چیزوں کا تجربہ کرتا ہے: پہلے زندگی کا تجربہ، اور اس کے بعد موت کا تجربہ۔ اگر انسان سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات پر سوچے، تو وہ یقینی طور پر ایک بہت بڑی حقیقت کو دریافت کرے گا، وہ یہ کہ انسان کو پیدا کر کے اس زمین پر آباد کرنا بطور انعام نہیں ہے، بلکہ وہ بطور امتحان ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے۔
یہ آزادی اس لیے ہے تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے، اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ کون شخص بااصول زندگی گزارتا ہے، اور کون شخص بے اصول زندگی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے، تو وہ اس حقیقت کو پا لے گا کہ موت دراصل خالق کے سامنے حاضری کا دن ہے۔ انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ابدی مخلوق ہے، لیکن اس کی مدتِ حیات، یعنی life span، کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے: موت سے قبل کی مدتِ حیات، یعنی pre-death period، اور موت کے بعد کی مدتِ حیات، یعنی post-death period۔
موت سے پہلے کی مدتِ حیات امتحان، یعنی test، کے لیے ہے، اور موت کے بعد کی مدتِ حیات اس کے سابقہ ریکارڈ کے مطابق انعام یا سزا پانے کے لیے۔ انسان آج اپنے آپ کو اس دنیا میں ایک زندہ اور باشعور وجود کی صورت میں پاتا ہے۔ یہ زندہ اور باشعور وجود ایک مستقل وجود ہے۔ موت وہ دن ہے جب کہ یہ زندہ اور باشعور وجود اپنی اسی موجودہ صورت میں عارضی دنیا سے نکالا جاتا ہے، اور اس کو اسی زندہ اور باشعور وجود کی حالت میں اگلی مستقل دنیا کی طرف منتقل، یعنی transfer، کر دیا جاتا ہے۔
یہ لمحہ ہر عورت اور مرد پر لازماً آنے والا ہے۔ وہ ناقابلِ قیاس حد تک سنگین لمحہ ہوگا۔ موت کے بعد آنے والے اس دورِ حیات میں یہی موجودہ انسان ہوگا، لیکن اس کے تمام اسباب اس سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ چکے ہوں گے۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہوگی جو اس سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ گئی، اور اس کے آگے وہ دنیا ہوگی جہاں اس کو کامل بے سروسامانی کے ساتھ ابدی طور پر رہنا ہے۔
دانشمند وہ ہے جو اس آنے والے دن کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 606۔