Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Maut ki yaad

Urdu · 4 min

موت کی یاد۔ موت کی یاد کیا ہے؟ موت کی یاد یہ ہے کہ آپ کامل شعور کے ساتھ یہ سوچ سکیں کہ آپ کا یہی زندہ وجود اچانک ایک دن موجودہ دنیا سے نکل کر ایک اور دنیا میں ڈال دیا جائے گا، جہاں آپ کی ہر چیز چھن چکی ہوگی، حتیٰ کہ آپ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے دوبارہ بات بھی نہ کر سکیں گے۔ آپ اس دنیا میں اکیلے ہوں گے، اور پوری طرح بے سروسامان بھی۔

یہ احساس جب زندہ شعور کی حیثیت سے آپ کے اوپر طاری ہو جائے، تب سمجھیے کہ آپ نے موت کو یاد کیا۔ موت کی یاد دور کے ایک واقعے کی یاد نہیں ہے؛ موت کی یاد ایک ایسے بھیانک تجربے کی یاد ہے جو بہرحال آپ کی زندگی میں پیش آنے والا ہے۔ موت کی یاد اگر اس طرح آپ کے دماغ میں سما جائے کہ دنیا سے آپ کی دلچسپی باقی نہ رہے، ہر رات آپ کو ایسے معلوم ہو جیسے کہ اگلی صبح آپ کے لیے قیامت کی صبح ہوگی، اور ہر صبح آپ کو ایسے معلوم ہو جیسے کہ آنے والی شام آپ کے لیے قیامت کی شام ثابت ہوگی۔ جب آپ کا حال یہ ہو جائے کہ آپ کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ہر لمحہ آپ موت کے دروازے پر کھڑے ہوئے ہیں، جب ہر مرنے والا شخص آپ کے لیے اپنی موت کی یاد دہانی بن جائے، اس وقت سمجھیے کہ آپ نے موت کو یاد کیا۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «أكثروا ذكر هادم اللذات الموت» الترمذی، کتاب الزہد. یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ اس حدیث میں لذت ایک جامع لفظ ہے؛ اس میں انسان کی تمام خواہشات اور تمام جذبات شامل ہیں۔ کوئی شخص موت کو حقیقی طور پر یاد کرے تو بلاشبہ اس کی زندگی میں بھونچال آ جائے گا، اس کی شخصیت ہر اعتبار سے ایک نئی شخصیت بن جائے گی، اس کی سوچ مکمل طور پر آخرت رُخی سوچ، یعنی آخرت اورینٹڈ تھنکنگ بن جائے گی۔

موت کی یاد کے بعد اگر کوئی شخص ویسا بنا رہے جیسا کہ وہ پہلے تھا، تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اس نے موت کو یاد ہی نہیں کیا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 592۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.