Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Maut se ghaflat kyun

Urdu · 4 min

موت سے غفلت کیوں؟ میں نے ایک نوجوان طالب علم کو دیکھا، اس کے امتحان کا زمانہ قریب آ گیا تھا، مگر اس کی تیاری نہیں ہوئی تھی۔ اس کے ماں باپ روزانہ اس کو امتحان کی یاد دلاتے رہتے تھے، وہ سخت انداز میں اس سے کہتے تھے کہ اگر تم امتحان میں فیل ہو گئے تو تمہارا مستقبل تباہ ہو جائے گا، تم کسی کام کے نہیں رہو گے۔ ماں باپ کی اس یاد دہانی کا اس طالب علم پر اتنا اثر ہوا کہ وہ اپنے کمرے میں بند ہو گیا اور ہر وقت بس امتحان کی تیاری کرنے لگا۔

اس واقعے سے میں نے سمجھا کہ لوگ موت سے غافل کیوں رہتے ہیں۔ موت سے غفلت کا سبب دراصل آخرت سے غفلت ہے۔ ہر عورت اور مرد رات دن صرف اپنی دنیا کے تقاضوں میں مشغول رہتے ہیں، وہ ہر وقت بس دنیا کے نفع و نقصان پر سوچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موت کا تصور ان کی زندہ یادداشت میں موجود نہیں رہتا۔

اگر ایسا ہو کہ ان کا ذہن روزانہ موت کے بعد آنے والے حالات پر سوچے، موت کے بعد خدا کی عدالت میں حاضری کو وہ ایک سنگین مسئلے کے طور پر اپنے ذہن میں تازہ کرتے رہیں، تو وہ کبھی موت سے غافل نہ ہوں۔ وہ موت کے بارے میں اس سے زیادہ سنجیدہ ہو جائیں جتنا کہ مذکورہ طالب علم اپنے امتحان کے بارے میں سنجیدہ ہو گیا تھا۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ موت سے پہلے کی زندگی کے بارے میں خوب سوچتے ہیں، لیکن وہ موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں بالکل نہیں سوچتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت دنیا کی چیزوں کا تذکرہ کرتے ہیں، لیکن وہ آخرت کے معاملے کا کبھی تذکرہ نہیں کرتے۔

یہی وہ مزاج ہے جس نے لوگوں کو موت کے معاملے میں غیر سنجیدہ بنا رکھا ہے۔ کوئی بھی واقعہ ان کو موت کی یاد دلانے والا نہیں بنتا۔ وہ دوسرے کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن وہ اپنی موت کو یاد نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت سے فراموشی خود اپنے مستقبل سے فراموشی ہے۔

موت ایک زلزلہ ہے۔ آدمی کے لیے جو کچھ کرنے کا موقع ہے، وہ صرف زلزلے سے پہلے ہے۔ زلزلے کے بعد کسی کے لیے کچھ کرنے کا موقع نہیں۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 591۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.