آنے والا وقت، ہر آدمی پر وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ خود تو ہوگا مگر یہ دنیا اس کے ساتھ نہ ہوگی۔ جب کہ وہ ہوگا مگر اس کے گھر والے، اس کے جاننے والے، اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ جب کہ وہ ہوگا مگر وہ سب کچھ اس کے پاس نہ ہوگا جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا تھا۔ یہ آنے والا لمحہ موت کا لمحہ ہے۔
موت آدمی کو اس دنیا سے نکال دے گی جہاں وہ سب کچھ پائے ہوئے تھا، اور اس دنیا میں پہنچا دے گی جہاں اس کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا۔ اس دن امیر آدمی ایک مفلص آدمی نظر آئے گا۔ اس دن طاقت والا آدمی بے طاقت ہو چکا ہوگا۔ اس دن موجودہ دنیا میں اس کے تمام ساتھی اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔
موت کا فرشتہ کبھی اپائنٹمنٹ لے کر نہیں آتا۔ وہ بتائے بغیر اچانک آدمی کے پاس آ جاتا ہے۔ عقلمند انسان وہ ہے جو ہر دن کو اپنا آخری دن سمجھے۔ یہ آنے والا وقت تیزی سے ہر آدمی کی طرف چلا آ رہا ہے۔
کسی آدمی کے اوپر وہ آج شام کو آ جائے گا، اور کسی آدمی کے اوپر کل صبح کو۔ کسی کے اوپر اس کے بعد، اور کسی کے اوپر اس کے بعد۔ یہ زندگی کے خاتمے کا وقت نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک نئے دورِ حیات میں داخلے کا وقت ہوگا۔ یہ بلاشبہ ہر آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
ہر عورت اور مرد کو سب سے زیادہ اسی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ ہر عورت اور مرد کو سب سے زیادہ اسی کی فکر کرنا چاہیے۔ آنے والے دورِ حیات یعنی لائف اسپین میں جو انسان کامیاب ہوا، وہی کامیاب ہے۔ اور جو انسان وہاں ناکام ہوا، وہی ناکام۔
کامیابی اور ناکامی کا حقیقی مدار موت کے بعد والے دورِ حیات پر ہے، نہ کہ موت کے پہلے والے دورِ حیات پر۔ موت کا تصور کوئی منفی تصور نہیں۔ وہ انتہائی حد تک ایک مثبت تصور ہے۔ موت کا تصور آدمی کو یہ محرک یعنی انسنٹو دیتا ہے کہ وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنی آخرت کی تیاری کرے۔
وہ آخرت کے معاملے کو اپنا واحد کنسرن بنا لے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 590۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.