موت کا سفر: انسان ایک سیارے پر آباد ہے جس کو سیارۂ زمین یعنی Planet Earth کہا جاتا ہے۔ یہ سیارۂ زمین مسلسل طور پر متحرک ہے، وہ ہر لمحہ 1000 میل فی گھنٹے کی رفتار سے چل رہا ہے۔ اس کے ساتھ گویا کہ انسان بھی ہر لمحہ حالتِ سفر میں ہے۔ یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ انسان ایک مسافر ہے۔
انسان کا یہ سفر لازمی طور پر جاری رہتا ہے، خواہ وہ اس کو چاہے یا وہ اس کو نہ چاہے۔ یہ سفر آدمی کو کہاں سے کہاں لے جا رہا ہے۔ قرآن کے مطابق ہر پیدا ہونے والا زندگی سے موت کی طرف جا رہا ہے۔ موت سے میدانِ حشر کی طرف، میدانِ حشر سے خدا کی عدالت کی حاضری کی طرف۔
خدا کی عدالت کی حاضری کے بعد اپنے آخری ٹھکانے کی طرف۔ یہ آخری ٹھکانہ یا تو ابدی جنت ہوگی یا ابدی جہنم۔ اس سفر میں آدمی کو یہ اختیار تو ہے کہ وہ اپنا چہرہ مشرق کی طرف کر لے یا مغرب کی طرف۔ وہ اپنا چہرہ شمال کی طرف کر لے یا جنوب کی طرف۔
اپنے رخ کے معاملے میں آدمی کو اس قسم کا اختیار حاصل ہے۔ لیکن سفر کے مراحل اور سفر کے آخری انجام کے معاملے میں اس کو کوئی ذاتی اختیار حاصل نہیں۔ سفر کے مراحل اور سفر کے آخری انجام کو طے کرنے والا خود خداوندِ عالم ہے۔ موت کا یہ تصور موت کو ایک نیا انقلابی مفہوم دے دیتا ہے۔
اسی طرح موت کا یہ تصور زندگی کو بھی ایک نیا انقلابی مفہوم عطا کرتا ہے۔ موت سادہ طور پر خاتمۂ حیات نہیں۔ موت کا تصور گویا کہ ایک فکری بھونچال ہے۔ موت کا تصور آدمی کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں آخری حد تک محتاط اور ذمہ دار بن جائے۔
اس طرح موت کا تصور آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ موت کے بعد کے مرحلے کے بارے میں آخری حد تک سنجیدہ ہو جائے۔ یہ گویا کہ موت کا ایک اصلاحی رول ہے۔ اس اعتبار سے موت بلاشبہ ہر آدمی کے لیے ایک مصلحِ اعظم کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 589۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.