موت ایک مستقل ریمائنڈر ہے۔ موت کیا ہے؟ موت عجز اور قدرت کے درمیان ملاقات کا دن ہے۔ موت وہ لمحہ ہے جب کہ عاجزِ مطلق کا سامنا قادرِ مطلق سے پیش آتا ہے۔
موت سے پہلے جو انسان اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے، موت کے بعد اچانک وہ دیکھے گا کہ اس کی آزادی خود اپنی نہ تھی، بلکہ وہ ایک اور ہستی کی دی ہوئی آزادی تھی۔ موت اچانک آدمی کو یہ بتائے گی کہ موت سے پہلے کی زندگی عمل کرنے کی زندگی تھی، اور موت کے بعد کی زندگی اپنے عمل کا انجام پانے کی زندگی۔ موت ایک ایسا گیٹ ہے جس کے اندر آدمی داخل ہونے کے لیے مجبور ہے، اور داخل ہونے کے بعد اس کو خالقِ کائنات کا آخری فیصلہ، یعنی فائنل ججمنٹ، سننا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے کوئی اور عدالت موجود نہیں۔
موت کا مطلب ہے ایک دنیا کو چھوڑ کر دوسری دنیا میں چلے جانا۔ پہلی دنیا میں سب کچھ اسبابِ امتحان کے طور پر ملا ہوا تھا۔ دوسری دنیا میں جو کچھ ملے گا، وہ صرف نتیجۂ امتحان کے طور پر ملے گا۔ پہلی دنیا میں ہر چیز بلا استحقاق ملی ہوئی تھی۔
دوسری دنیا میں کوئی چیز صرف اس وقت ملے گی جب کہ آدمی نے اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرو، یعنی أَكْثِرُوا ذِكْرَى هَادِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کو اپنے لیے ایک مستقل ریمائنڈر، یعنی پرماننٹ ریمائنڈر، بنا لو۔ اگر کسی آدمی کو ایسی جسمانی چوٹ لگ جائے جس کا درد، یعنی pain، وہ ہر وقت محسوس کرتا ہے، تو یہ درد اس چوٹ کے لیے گویا ایک مستقل ریمائنڈر بن جائے گا۔ اسی طرح جو شخص موت کے معاملے کو حقیقی طور پر جان لے، تو وہ ہر وقت اس کو یاد کرنے لگے گا۔
موت کی یاد اس کو آخرت کی یاد دلائے گی، اور آخرت کی یاد اس کو وہ تمام چیزیں یاد دلاتی رہے گی جن کا تعلق موت کے بعد والی زندگی سے ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 588۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.