موت کا واقعہ، موت بلاشبہ سب سے زیادہ معلوم واقعہ ہے، مگر موت کا واقعہ عملاً سب سے زیادہ غیر معلوم واقعہ بنا ہوا ہے۔ آپ کسی بھی شخص سے ملیں، وہ موت کا سنجیدہ ذکر کرتے ہوئے نہیں ملے گا۔ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ موت لوگوں کے لیے صرف ایک خارجی خبر ہے۔
وہ لوگوں کا ذاتی تجربہ، یعنی personal experience نہیں۔ مرنے والے روزانہ مر رہے ہیں، ان مرنے والوں کے لیے موت یقیناً ایک ذاتی تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ موت کا ذاتی تجربہ پیش آتے ہی آدمی اس دنیا کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ وہ اپنے تجربے کو بتانے کے لیے دوبارہ اس دنیا میں واپس نہیں آتا۔
انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر خبر کو صرف دور کی ایک چیز سمجھتا ہے۔ وہ کسی خبر کو ذاتی تجربے کے طور پر نہیں لیتا۔ مثال کے طور پر، سگریٹ نوشی، یعنی smoking، کے نقصان کی خبر آدمی کو سگریٹ سے روکنے والی نہیں بنتی۔ وہ سگریٹ نوشی چھوڑنے کا ارادہ صرف اس وقت کرتا ہے جبکہ اس کو سگریٹ نوشی کے نقصان کا ذاتی تجربہ ہو جائے۔
یہ ایک مہلک کمزوری ہے، ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ اپنے کو اس مہلک کمزوری کا شکار ہونے سے بچائیں۔ عقلمند وہ ہے جو اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ دوسرے کی موت اس کو اپنی موت نظر آنے لگے۔ موت کی خبر اس کو اسی طرح ہلانے والی ثابت ہو جس طرح موت کا ذاتی تجربہ آدمی کو آخری حد تک ہلا دیتا ہے۔ جس آدمی کو موت کا حقیقی شعور ہو جائے، وہ زندگی سے زیادہ موت کے بارے میں سوچے گا۔
وہ زندگی سے زیادہ موت کے معاملے میں سنجیدہ ہو جائے گا۔ زندگی سے متعلق کوئی غلطی صرف وقتی نقصان پہنچاتی ہے۔ لیکن موت کے بارے میں غلطی کرنا آدمی کے لیے ابدی نقصان کا سبب بن جائے گا۔ جو شخص اس حقیقت کو جان لے، وہ موت کے بارے میں آخری حد تک سنجیدہ ہو جائے گا۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 587۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.