سب سے بڑی کنڈیشننگ یہ ہے کہ ہر انسان کو آخر کار مرنا ہے، لیکن ہر انسان موت کو بھولا ہوا ہے۔ حقیقی معنوں میں موت کو یاد کرنے والا کوئی نہیں۔ اس کا سبب کیا ہے؟ ہر عورت اور مرد موت کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں، لیکن ہر عورت اور مرد موت سے بے خبری کی زندگی گزارتے ہیں۔
اس ظاہرہ یعنی فینامینن کا اصل سبب کنڈیشننگ ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک دنیا کے اندر پیدا ہوتا ہے، پیدا ہوتے ہی اس کو ایک مکمل دنیا مل جاتی ہے۔ یہ دنیا ہر لمحہ اس کے ساتھ رہتی ہے۔ انسان خواہ اپنے مقام پر ہو یا وہ سفر میں ہو، ہر حال میں وہ ایک دنیا کے اندر زندگی گزارتا ہے۔
دنیا سے یہ غیر منقطع اور مسلسل تعلق ہر لمحہ اس کی کنڈیشننگ کرتا رہتا ہے۔ آدمی غیر شعوری طور پر یہ یقین کر لیتا ہے کہ میں اور دنیا دونوں ایک دوسرے کا لازمی حصہ ہیں۔ میں دنیا سے جدا ہونے والا نہیں، اور دنیا مجھ سے جدا ہونے والی نہیں۔ یہ پورا معاملہ غیر شعوری طور پر ہوتا ہے۔
اسی غیر شعوری معاملے کا نام کنڈیشننگ ہے۔ مسلسل عمل کی بنا پر یہ کنڈیشننگ آخری حد تک پختہ ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ کوئی عورت یا مرد یہ سوچ نہیں پاتے کہ ان کے اوپر وہ وقت بھی آ سکتا ہے جبکہ وہ موجودہ دنیا سے الگ ہو جائیں گے، اور موجودہ دنیا ان سے الگ ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ موت کے کنارے کھڑے ہو کر بھی وہ کامل طور پر موت کی حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرو، یعنی أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتَ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان سے موت، موت، موت کہتے رہو۔
اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ بہت زیادہ سوچ کر موت کے بارے میں اپنی کنڈیشننگ کو توڑو۔ موت کے بارے میں اپنی ڈی کنڈیشننگ کرو۔ موت کے معاملے میں یہ ڈی کنڈیشننگ صرف اس وقت ہو سکتی ہے جبکہ آدمی اس معاملے میں غور و فکر کی آخری حد تک پہنچ جائے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 586۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.