موت کا دھماکہ ایک دولت مند آدمی کا واقعہ ہے۔ اس نے اپنے گھر کے ایک ملازم سے کہا کہ میرا بستر ٹھیک کر دو، مجھے سونا ہے۔ یہ بہت نرم اور آرام دہ بستر تھا۔ ملازم نے بستر ٹھیک کیا۔
اس کے بعد تھوڑی دیر کے لیے وہ بستر پر لیٹ گیا۔ ملازم تھکا ہوا تھا، چنانچہ اس کو فوراً نیند آ گئی۔ مذکورہ دولت مند آدمی جب اپنے کمرے میں آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کا ملازم اس کے بستر پر سو رہا ہے۔ یہ دیکھ کر دولت مند آدمی کو غصہ آ گیا۔
اس نے دھکا دے کر ملازم کو جگایا اور ڈانٹ کر کہا کہ میں نے تم کو بستر ٹھیک کرنے کے لیے کہا تھا، نہ کہ خود اس پر سونے کے لیے۔ یہ سن کر ملازم نے کہا، "سر، اس وقت کو یاد کیجیے جب آپ پر موت آئے گی۔ " اور آپ کو اس نرم بستر کے بجائے قبر کے تاریک گڑھے میں لٹا دیا جائے گا۔ مذکورہ دولت مند آدمی کے لیے ملازم کا یہ قول ایک دھماکہ ثابت ہوا۔
اس قول کو سن کر وہ لرز اٹھا۔ اس کے بعد وہ بہت زیادہ موت کے بارے میں سوچنے لگا۔ یہ سوچ اتنی بڑھی کہ دولت کے باوجود اس کا آرام و عیش اس سے چھوٹ گیا۔ سب کچھ ہونے کے باوجود وہ اس طرح رہنے لگا جیسے کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔
وہ زندگی سے زیادہ موت کو حقیقی سمجھنے لگا۔ اس کے بعد وہ بالکل سادہ زندگی گزارنے لگا، یہاں تک کہ وہ کم عمری میں مر گیا۔ موت کی یاد سب سے بڑی حقیقت کی یاد ہے۔ موت کی یاد آدمی کے اندر انقلاب برپا کر دیتی ہے۔
لیکن موت کی یاد کے لیے ایک دھماکہ درکار ہے۔ موت کی فراموشی کو توڑنے کے لیے دھماکے سے کم کوئی چیز کارآمد نہیں۔ یہ دھماکہ مادی بھی ہو سکتا ہے اور فکری بھی۔ وہ انسان بلاشبہ ایک خوش قسمت انسان ہے جس کی زندگی میں اس طرح کا کوئی دھماکہ پیش آئے اور وہ موت کو یاد کرنے والا بن جائے۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 585۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.