موت کا واقعہ: ہر عورت اور ہر مرد کو موت یعنی ڈیتھ کا سامنا کرنا ہے۔ کسی کو آج موت آنے والی ہے، اور کسی کو کل۔ موت ہر پیدا ہونے والے انسان کا سب سے زیادہ بھیانک مسئلہ ہے۔ موت کا مطلب ہے موجودہ دنیا سے کامل طور پر منقطع ہو جانا۔
Death means total detachment from the present world. موت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا اپنا وجود تو اس کے ساتھ رہتا ہے، لیکن بقیہ تمام چیزیں اس سے مکمل طور پر چھن جائیں: گھر، خاندان، ساتھی، سامانِ حیات۔ آدمی کی تاریخ، غرض سب کچھ اچانک اس سے اس طرح چھن جائے کہ دونوں ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موت ہر عورت اور مرد کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
ہر انسان کو یہ سوچنا ہے کہ موت کے بعد اس کے ساتھ کیا پیش آئے گا۔ ہر انسان کو اس دن کی تیاری کرنا ہے جب کہ وہ موجودہ دنیا میں زندگی کا سفر طے کر کے وہاں پہنچے گا جہاں اس کے پیچھے وہ دنیا ہوگی جس کو وہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ چکا، اور اس کے آگے وہ دنیا ہوگی جہاں سے لوٹنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ یہ لمحہ ہر عورت اور مرد پر آنے والا ہے۔ اس معاملے میں کسی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔
یہی وہ مسئلہ ہے جس کے بارے میں ہر عورت اور مرد کو سب سے زیادہ سوچنا چاہیے۔ مزید یہ کہ موت کے بعد آنے والے دورِ حیات میں یہ ممکن نہ ہوگا کہ آدمی دوبارہ عمل کرے، وہ دوبارہ اپنے لیے ایک نئے مستقبل کی تعمیر کرے۔ عمل کا موقع صرف موت سے پہلے والے دورِ حیات میں ہے۔ موت کے بعد والے دورِ حیات میں عمل نہیں ہے، بلکہ صرف انجام ہے۔
ہر آدمی کو چاہیے کہ موت کے بعد اس کے ساتھ جو کچھ پیش آنے والا ہے، اس کو وہ آج ہی جان لے، کیونکہ موت کے بعد جاننے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں جاننے والا صرف وہی شخص ہے جو موت سے پہلے اس کی حقیقت کو دریافت کر لے۔ موت کے بعد ہر شخص اس کی حقیقت سے باخبر ہو جائے گا، مگر اس وقت کا جاننا کوئی جاننا نہیں۔ یہی ہر انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 584۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.