موت ایک طرفہ معاملہ ہے۔ زلزلہ ہمیشہ ایک طرفہ طور پر آتا ہے۔ زلزلہ ایک ایسا فیصلہ کن واقعہ ہے جس میں انسان کی رائے اور اس کے اختیار کا کوئی دخل نہیں۔ یہی معاملہ موت کا ہے۔
موت ہمیشہ ایک طرفہ طور پر آتی ہے۔ موت کے معاملے میں انسان کو کوئی ذاتی اختیار حاصل نہیں۔ موت کا یہ پہلو بے حد سنگین ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی ہر لمحہ موت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔
موت جب کسی انسان کے اوپر آتی ہے تو وہ اچانک اس کو بالکل اکیلا بنا دیتی ہے۔ موت سے پہلے آدمی بے شمار چیزوں کے درمیان ہوتا ہے: گھر، خاندان، ساتھی، مددگار۔ نیز ایک پورا عالمِ فطرت جو ہر لمحہ اس کی حاجتیں پوری کرنے کے لیے موجود رہتا ہے۔ موت کے بعد آدمی اچانک محسوس کرتا ہے کہ اس کا وجود تو اب بھی وہی ہے۔
اس کا وجود پہلے کی طرح اب بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن اپنے وجود کے باہر کی تمام چیزیں اس کا ساتھ چھوڑ چکی ہوتی ہیں۔ وہ اپنے سامنے دیکھتا ہے تو وہاں اس کو کوئی نظر نہیں آتا۔ وہ اپنے پیچھے دیکھتا ہے تو وہاں اس کو کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنے دائیں دیکھتا ہے تو وہاں اس کو ہر طرف سناٹا نظر آتا ہے۔
وہ اپنے بائیں دیکھتا ہے تو وہاں بھی اس کو سناٹے کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہیں دیتی۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ یہاں اس کے لیے بے بسی اور بے چارگی کے سوا کچھ اور موجود نہیں۔ موت سے پہلے کی دنیا میں آدمی کو بہت کچھ ملا ہوا رہتا ہے، مگر یہ تمام چیزیں صرف وقتی سامانِ حیات کے طور پر ہیں۔ وہ صرف موت سے پہلے کے دورِ حیات کے لیے ہیں۔
موت کے بعد کے دورِ حیات میں وہ دوبارہ کسی کو ملنے والی نہیں۔ البتہ جو عورت یا مرد اپنے کو مستحق ثابت کریں، ان کو موت کے بعد کے دورِ حیات میں یہ تمام چیزیں مزید اضافے کے ساتھ بطورِ انعام حاصل ہو جائیں گی۔ استحقاق یعنی ڈیزرویشن کے بغیر کسی بھی عورت یا مرد کو آخرت کی زندگی یعنی لائف ہیر آفٹر میں دوبارہ یہ سامانِ حیات ملنے والا نہیں۔ کتابِ زندگی مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 583۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.