Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Maut se bekhabar

Urdu · 4 min

موت سے بے خبر لوگ ہر روز مر رہے ہیں، ہر روز انسان موت کی کوئی نہ کوئی خبر سنتا ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ کوئی شخص خود اپنی موت کے بارے میں نہیں سوچتا، وہ دوسروں کی موت کے بارے میں جانتا ہے، لیکن خود اپنی موت کے بارے میں وہ شعوری طور پر بے خبر رہتا ہے۔ اس بے خبری کا سبب کیا ہے؟ اصل یہ ہے کہ ہر بات جو آدمی جانتا ہے، وہ سوچ کر جانتا ہے۔

سوچنے سے باتیں آدمی کے علم میں آتی ہیں۔ جس چیز کے بارے میں آپ نہ سوچیں، اس کے بارے میں آپ باخبر بھی نہیں ہو سکتے۔ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی محدودیت کی بنا پر کسی ایک ہی چیز پر فوکس کر پاتا ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ علائقِ دنیا یعنی ورلڈلی ریلیشنز میں مصروف رہتے ہیں۔

وہ صرف اپنے ذاتی معاملات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس معاملے میں لوگوں کی بے خبری کا حال یہ ہے کہ وہ قبرستان میں ایک مرے ہوئے انسان کو دیکھتے ہیں، لیکن وہ بدستور اپنے دنیاوی معاملات پر سوچتے رہتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں موبائل نے لوگوں کی اس غیر ضروری مصروفیت میں اور زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ ہر آدمی کو بہرحال موت کا سامنا کرنا ہے، لیکن موت کا شعور صرف اس انسان کو حاصل ہوگا جو دنیاوی معاملات سے منقطع یعنی ڈیٹیچڈ ہو کر موت کے بارے میں سوچ سکے۔

لوگوں کی اس عادت کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کی سوچ کا دائرہ صرف اپنے دنیاوی معاملات اور تعلقات تک محدود رہتا ہے۔ موت کا معاملہ کسی بھی وقت ان کے فوکس میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام عورتیں اور تمام مرد موت کے درمیان رہتے ہوئے بھی موت سے بے خبر رہتے ہیں۔ وہ موت کے واقعے کو شعوری طور پر صرف اس وقت جانتے ہیں جب کہ موت کا فرشتہ آ جائے اور ان کی روح کو قبض کر کے جبری طور پر ان کو موت کے بعد والی دنیا میں داخل کر دے۔

کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 582۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.