موت کے کنارے ایک معروف مسلم شخصیت کا مضمون نظر سے گزرا، وہ اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے اس مضمون میں اپنا حال بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ "میں بھی اپنی کمزوری اور انحطاطِ صحت کو دیکھتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ غالب نے شاید کچھ ایسے ہی حالات میں دو شعر کہے ہوں گے"۔ رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو، ہم سخن کوئی نہ ہو، ہم زباں کوئی نہ ہو۔ پڑھیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار، اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو۔
بڑھاپے کی عمر درحقیقت موت کو یاد دلانے والی، یعنی ریمائنڈر ہوتی ہے۔ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر کسی عورت یا مرد کو سب سے زیادہ جو بات یاد کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ "اب میری موت بہت قریب آ چکی ہے"۔ یہ یاد اس کو خدا اور آخرت کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ کر دے گی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ انسان موت کے عین قریب پہنچ کر بھی موت کو یاد نہیں کرتا، بلکہ وہ دوسری دوسری باتوں میں الجھا رہتا ہے۔
مذکورہ اقتباس اسی قسم کی ایک مثال ہے۔ مضمون نگار نے اپنے بڑھاپے کا ذکر کرتے ہوئے غالب کا ایک شعر نقل کر دیا، حالانکہ انہیں یہ لکھنا چاہیے تھا کہ "اب میں موت کے کنارے پہنچ چکا ہوں، بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ میں خدا کے سامنے اس طرح حاضر کر دیا جاؤں کہ میرے پاس بے بسی یعنی helplessness کے سوا کوئی اور سرمایہ موجود نہ ہو"۔ یہ بلاشبہ سب سے زیادہ خسارے کی بات ہے۔ موت ہر انسان کے لیے آخرت کی دنیا میں داخل ہونے کا دروازہ ہے۔
موت کے بعد ہر انسان پر وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ اپنے خالق کے سامنے حساب کتاب کے لیے پیش کر دیا جائے۔ ہر انسان کو سب سے زیادہ اسی آنے والے وقت کے بارے میں غور کرنا چاہیے۔ مگر عجیب بات ہے کہ انسان اسی اہم ترین بات کو سب سے زیادہ بھولا ہوا رہتا ہے۔ وہ اس کے بارے میں صرف اس وقت سوچتا ہے جب کہ سوچنے کا وقت نکل چکا ہو۔
کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 581۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.