وقت مقرر ہے۔ ہندوستان میں ایک مشہور مقولہ ہے: "قبضہ سچا، دعویٰ جھوٹا"۔ مگر امریکہ کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ امریکہ کا اصول یہ ہے کہ دعویٰ سچا، قبضہ جھوٹا۔
ہندوستان میں ہر جگہ یہ مثال دیکھی جا سکتی ہے کہ ایک گھر یا زمین اگر ایک بار کسی کے قبضے میں آ جائے تو اس کو عدالتی کارروائی کے ذریعے وہاں سے نکالنا عملی طور پر سخت دشوار ہو جاتا ہے۔ مگر امریکہ میں ایسا نہیں ہوتا۔ ایک بار میں امریکہ گیا، وہاں میں لاس اینجلس میں ایک صاحب کے ساتھ ان کے گھر پر ٹھہرا ہوا تھا۔ وہاں ان کا ایک اور گھر تھا جس کو انہوں نے وقتی طور پر ایک شخص کو کرائے پر دے دیا تھا۔
جب مدت پوری ہوئی تو انہوں نے اس آدمی سے گھر چھوڑنے کے لیے کہا، مگر وہ آدمی گھر چھوڑنے پر راضی نہ ہوا۔ اس کے بعد مالکِ مکان نے یہ کیا کہ ضروری کاغذات کے ساتھ ایک درخواست پولیس آفس میں بھیج دی۔ اس کے بعد پولیس اس گھر میں پہنچی اور اس نے کرایہ دار کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر گھر خالی کرے، ورنہ اس کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد مذکورہ کرایہ دار خاموشی کے ساتھ اس گھر کو چھوڑ کر چلا گیا۔
یہ واقعہ دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ ایک اور معاملے میں ہر شخص کا کیس یہی ہے۔ ہر شخص موجودہ زمین پر ایک محدود مدت، یعنی limited period کے لیے آباد کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہر شخص کو لازماً اس زمین کو چھوڑ دینا ہے۔ مقرر مدت پوری ہوتے ہی خدا کے فرشتے آئیں گے اور جبری طور پر، یعنی compulsively، وہ انسان کو اس زمین سے بے دخل، یعنی evict کر دیں گے۔
اگر کوئی شخص چاہے کہ وہ اس زمین پر اپنے قبضے کو مسلسل باقی رکھے تو ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ موجودہ زمین پر انسان کا قیام خالق کی مرضی کے تحت صرف محدود مدت تک کے لیے ہے۔ جب یہ مدت پوری ہوگی تو اس کے بعد وہی معاملہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ سورہ نمبر 7 آیت 34۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 580۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.