شاکر اور کفور۔ موت سے پہلے کا زمانۂ حیات امتحان کا زمانہ ہے، موت کے بعد کا زمانۂ حیات امتحان کے مطابق اپنا انجام پانے کا زمانہ۔ یہ امتحان قرآن سورہ نمبر 76 آیت 7 کے مطابق اس بات کا ہے کہ کون شاکر بنتا ہے اور کون کفور۔ کون اعتراف کی زندگی جیتا ہے اور کون بے اعترافی میں مر جاتا ہے۔
شکر کی حقیقت اعتراف ہے، اور کفر کی حقیقت بے اعترافی۔ آخرت میں جب تمام انسان خالق کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے تو ہر ایک کے سابقہ اعمال کے مطابق اس کی ابدی زندگی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ خالق کی عدالت میں کسی کو شاکر ڈیکلیئر کیا جائے گا اور کسی کو کافر ڈیکلیئر کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اس بنیاد پر ہوگا کہ کس شخص نے موت سے پہلے کی زندگی میں کس قسم کے عمل کا ثبوت دیا۔
کسی انسان کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کو موت کے بعد اگلے دورِ حیات میں جنت میں داخلہ مل جائے۔ جنت میں یہ داخلہ کسی پراسرار بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ مکمل طور پر ایک معلوم بنیاد پر ہوگا۔ قرآن کی مذکورہ آیت یہ بتاتی ہے کہ یہ بنیاد شکر یا اعتراف ہے۔ موجودہ دنیا کی زندگی میں خدا کے فرشتے ہر انسان کے قول و عمل کا ریکارڈ بنا رہے ہیں۔
اس ریکارڈ کے مطابق جو شخص شاکر ثابت ہوگا، اس کے لیے جنت میں داخلے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اور جو شخص کفور ثابت ہوگا، وہ ہمیشہ کے لیے جنت سے محروم کر دیا جائے گا۔ شاکر انسان کے اندر ایک مکمل شخصیت بنتی ہے۔ اس شخصیت کو دوسرے الفاظ میں ربانی شخصیت کہا جا سکتا ہے۔
اس شخصیت کی تعمیر آدمی خود کرتا ہے۔ کوئی شخص اپنے شعور کو جتنا زیادہ بیدار کرے گا، اتنا ہی وہ اپنے اندر ربانی شخصیت بنانے میں کامیاب ہوگا۔ یہ ربانی شخصیت زندہ شعوری عمل کے ذریعے بنتی ہے۔ وہ نہ خوش فہمیوں کے ذریعے بنتی ہے اور نہ کسی پراسرار طریقے کے ذریعے۔
کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 579۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.