Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Aakhri anjaam

Urdu · 4 min

آخری انجام: اورنگزیب عالمگیر وفات 1707 کی بیٹی شہزادی زیب النساء بیگم وفات 1701 محل میں پیدا ہوئی، شاہانہ ماحول میں اس کی پرورش ہوئی، مگر آخر میں وہ بیمار ہو گئی، 62 سال کی عمر میں، بعض تلخ تجربات کے بعد، مایوسی کے عالم میں، دہلی میں اس کی موت ہوئی۔ مرنے سے پہلے شہزادی نے اپنے مزار کے کتبے کے لیے حسبِ ذیل فارسی شعر لکھا: "بر مزارِ ماں غریباں، نئے چراغِ نئے گُلے، نئے پرے پروانہ رقصت، نئے صدائے بلبلے" یعنی مجھ غریب کی قبر پر نہ کوئی چراغ ہے اور نہ کوئی پھول، اس لیے میرے مزار پر نہ کوئی پروانہ رقص کرتا ہے اور نہ کسی بلبل کی آواز سنائی دیتی ہے۔ موت اور آخری انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ہر عورت اور مرد آخر کار اسی قسم کے انجام سے دوچار ہوتے ہیں؛ ہر پیدا ہونے والے کے لیے آخر کار یہی مقدر ہے کہ وہ بے بسی کے عالم میں مرے اور ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلا جائے۔ یہ انجام ہر ایک کے لیے مقدر ہے، خواہ بظاہر وہ دولت و اقتدار کے ماحول میں پیدا ہو یا غربت و بے کسی کے ماحول میں۔

کیا انسان اسی لیے پیدا ہوا تھا کہ اس طرح وہ ایک ناکام زندگی گزارے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے مٹ کر ختم ہو جائے؟ یہ تصور عقل کے بھی خلاف ہے اور فطرت کے بھی خلاف۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی معنویت، یعنی meaning، کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ دنیا کو آخرت کی دنیا کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔ آخرت کی دنیا انسانی زندگی کو بامعنی بناتی ہے؛ آخرت کو مانے بغیر انسان کی زندگی سراسر بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔

آخرت کا یہ تصور اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ آخرت کا تصور ایک حقیقی تصور ہے، وہ کوئی بے بنیاد مفروضہ نہیں۔ آخرت کو مانے بغیر موجودہ دنیا کی کوئی بامعنی توجیہ ممکن نہیں۔ آخرت کا عقیدہ انسان کو ایک بامقصد نشانہ دے دیتا ہے۔ آخرت کو ماننے کے بعد موت سے پہلے کی زندگی بھی بامعنی بن جاتی ہے، اور موت کے بعد کی زندگی بھی بامعنی۔

کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 578۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.