← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Jis khushi ki hamen talaash hai
Urdu · 6 min
جس خوشی کی ہمیں تلاش ہے۔ ایک بار میں راجستھان کے ایک مقام پر گیا، یہ سفر مولانا محمد تقی امینی، وفات 1991، کے ساتھ ہوا تھا۔ ہم دونوں ایک صاحب سے ملے، وہ آبادی سے باہر ایک فارم ہاؤس میں رہتے تھے۔ ان کو اپنے والد سے کافی مال وراثت میں ملا تھا۔
انہوں نے اپنی پسند کی ایک خاتون سے شادی کی، اور دونوں اس فارم ہاؤس میں رہنے لگے۔ بظاہر یہ فارم ہاؤس ایک خوبصورت دنیا کا منظر پیش کر رہا تھا، لیکن اس کے اندر جو عورت اور مرد رہ رہے تھے، وہ کامل افسردگی کی تصویر تھے۔ ان دونوں نے اپنی پسند کی شادی کی، اور پھر اس فارم ہاؤس کے اندر ایک پر مسرت ازدواجی زندگی گزارنے لگے۔ کچھ سالوں تک دونوں بہت خوش تھے۔
اس کے بعد دونوں فارم ہاؤس کی اس زندگی سے اکتا گئے۔ میں اور مولانا محمد تقی امینی اس گھر میں ایک رات اور ایک دن ٹھہرے۔ اس مدتِ قیام میں میں نے ایک بار بھی نہیں دیکھا کہ وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہے ہوں۔ یہ فارم ہاؤس جو کبھی خوشیوں کا گہوارہ معلوم ہوتا ہوگا، اب وہ افسردگی کا ایک قبرستان بنا ہوا نظر آتا تھا۔
میں نے اپنی زندگی میں اس طرح کے بہت سے لوگ دیکھے ہیں، مسلمانوں میں بھی اور غیر مسلموں میں بھی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نہایت محنت سے مال کمایا، لیکن جب مال انہیں حاصل ہو گیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ مال میں ان کے لیے کوئی خوشی نہیں۔ کسی نے نہایت ذوق و شوق کے ساتھ اپنی پسند کی شادی کی، لیکن تھوڑے دنوں کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ شادی ان کے لیے صرف ایک خشک ذمہ داری ہے، نہ کہ خوشیوں کی پر مسرت زندگی۔ کسی نے اپنی پوری زندگی کو سیاست میں وقف کیا، تاکہ وہ سیاسی اقتدار کی کرسی پر پہنچ سکے۔
لیکن جب سیاسی اقتدار حاصل ہو گیا تو اس کے لیے خوشیوں کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ کسی کا نشانہ یہ تھا کہ اس کے پاس ایک کشادہ اور خوبصورت مکان ہو۔ لیکن مکان جب بن کر تیار ہو گیا تو اس کے چہرے سے خوشی رخصت ہو چکی تھی۔ وغیرہ۔
موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ یہ دنیا انسان کے لیے المیہ، یعنی ٹریجڈی کے سوا اور کچھ نہیں۔ بڑے بڑے ادیبوں نے ہر زبان میں لاکھوں کی تعداد میں ناول لکھے ہیں۔ یہ ناول گویا انسانی جذبات کی ترجمانی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ کسی بھی زبان میں کوئی تربیت، یعنی کامیڈی ناول، کبھی زیادہ مقبول نہ ہو سکا۔
دنیا میں جتنے بھی مقبول ناول ہیں، وہ سب کے سب المیہ، یعنی ٹریجڈی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر انسان اس احساس میں جی رہا ہے کہ وہ جس خوشی کو پانا چاہتا تھا، وہ اس کو حاصل نہ ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ المیہ ناول انسان کے دل کو چھوتے ہیں۔ تربیت ناول انسان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتے۔
یہ انسانی زندگی کا بڑا عجیب پہلو ہے کہ ہر انسان کی عمر کا پہلا نصف حصہ خوشی کی تلاش میں گزرتا ہے، اور بقیہ نصف حصہ اس احساس میں کہ بظاہر خوشیوں کے سامان حاصل کرنے کے باوجود میں اپنے لیے خوشیوں کی مطلوب دنیا نہ پا سکا۔ تاریخ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کی موجودہ زندگی اس لیے نہیں ہے کہ وہ یہاں اپنے لیے خوشیوں کی ایک دنیا بنائے۔ موجودہ زندگی صرف اس لیے ہے کہ آدمی حسنِ عمل سے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں خوشیوں کی مطلوب دنیا پا سکے۔ موت سے پہلے کا مرحلہ حیات اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنانے کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ حیات حسبِ استحقاق جنت میں داخلے کا مرحلہ۔
یعنی خوشیوں کی اس دنیا میں داخلے کا مرحلہ، جس کو ہر آدمی کی روح تلاش کر رہی ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 576۔