Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jab parda hatega

Urdu · 3 min

جب پردہ ہٹے گا، آج تمام حقیقتیں عالمِ غیب میں ہیں۔ ایک وقت آئے گا جب کہ پردہ ہٹے گا اور تمام حقیقتیں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن جب پردہ ہٹے گا تو اس وقت عمل کا موقع ختم ہو چکا ہوگا۔ انسان کرنا چاہے گا، مگر وہ کر نہ سکے گا۔

انسان لوٹنا چاہے گا، مگر وہ لوٹ نہ سکے گا۔ اس معاملے میں ایک سنگین حقیقت یہ ہے کہ آدم نے جنت میں ایک غلطی کی، اور انہیں جنت سے باہر آنا پڑا۔ اس غلطی کے باوجود آدم کو دوسرا موقع، یعنی سیکنڈ چانس دیا گیا تھا۔ یعنی بہتر عمل کر کے دوبارہ وہ جنت میں جا سکتے ہیں۔

یہ خصوصی معاملہ انسان کی صرف پہلی نسل کے لیے کیا گیا تھا۔ انسان کی بعد کی نسلوں کے لیے کوئی دوسرا موقع نہیں۔ انسانیت کی بعد کی نسلوں کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں عمل کا صرف ایک موقع پائیں۔ اگر وہ اس پہلے موقع، یعنی فرسٹ چانس کو استعمال نہ کر سکے تو ان کو کوئی دوسرا موقع ملنے والا نہیں۔

انہیں صرف ایک موقع ملا ہے۔ وہ یا تو اس موقع کو استعمال کریں یا وہ اس موقع کو کھو دیں۔ اگر انہوں نے اس پہلے موقع کو استعمال کیا تو وہ بعد کی زندگی میں جنت میں جگہ پائیں گے۔ اور اگر انہوں نے اس پہلے موقع کو کھو دیا تو ان کو دوبارہ کوئی اور موقع حاصل ہونے والا نہیں۔

اس صورتحال کا یہ تقاضا ہے کہ ہر عورت اور مرد جو اس دنیا میں آتے ہیں، وہ یہاں بے حد محتاط زندگی گزاریں۔ وہ اپنے ایک لمحے کو ہزاروں سال سے زیادہ اہم سمجھیں۔ وہ آخرت کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا کنسرن بنائیں۔ ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کی منصوبہ بندی تمام تر مستقبل کے اعتبار سے کریں، نہ کہ صرف حال کے اعتبار سے۔

وہ گہرے مطالعے کے ذریعے خالق کے تخلیقی پلان، یعنی کریشن پلان، کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 575۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.