دوڑ بے منزل۔ ہر آدمی بے تکان بول رہا ہے۔ ہر آدمی آخری حد تک اپنی ضرورتوں کو بڑھائے ہوئے ہے۔ ہر آدمی لامحدود طور پر اپنی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتا ہے۔
ہر آدمی چاہتا ہے کہ عیش اور راحت کی تمام چیزیں وہ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے اکٹھا کر لے۔ یہ مادیت کی طرف مجنونانہ دوڑ ہے، مگر نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟ ہر آدمی اس احساس میں جیتا ہے کہ اس کی تمنائیں پوری نہیں ہوئیں۔ جو فلفلمنٹ وہ چاہتا تھا، وہ اس کو حاصل نہ کر سکا۔
ہر عورت اور مرد اسی محرومی کے احساس میں جیتے ہیں۔ اسی حال میں ان کے رات اور دن گزرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی تمناؤں کا گھروندا حالات کے طوفان سے ٹکرا کر بکھر جاتا ہے۔ اور اگر حالات اس کو نہ توڑیں تو موت ہر حال میں اپنے وقت پر آتی ہے، اور ہر ایک کو مجبور کرتی ہے کہ وہ موت کے بے رحم فیصلے کو قبول کرے۔ جس طرح اس سے پہلے اس دنیا میں آنے والے تمام لوگ موت کے فیصلے کو مجبورانہ طور پر قبول کر چکے ہیں، لوگ موت سے پہلے کی عارضی زندگی کا سامان درست کرنے میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ موت کے بعد کی ابدی زندگی کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا جائے۔
موت سے پہلے کی زندگی امتحان کی زندگی ہے۔ اس بنا پر یہ خدا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ایک کے لیے وہ سامان فراہم کرے جس کے ذریعے وہ اپنا امتحان دے سکے۔ مگر جہاں تک موت کے بعد کی زندگی کا معاملہ ہے، اس کی ذمہ داری خدا نے نہیں لی ہے۔ موت کے بعد کی زندگی میں سارا معاملہ آدمی کے اپنے عمل پر منحصر ہے۔
موجودہ زندگی کا اصول یہ ہے کہ کچھ نہ کرو، تب بھی تم کو ضرورت کا سامان ایک طرفہ طور پر فراہم کیا جائے گا۔ مگر اگلی زندگی کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اگلی زندگی کا اصول ہے: جیسا بونا، ویسا کاٹنا۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگ موجودہ زندگی کے لیے تو خوب دوڑ دھوپ کر رہے ہیں، لیکن اگلی زندگی کے معاملے کو وہ سرتاسر بھولے ہوئے ہیں۔
موجودہ زندگی میں آج کی کمی کل کے دن زیادہ عمل کر کے پوری کر لی جاتی ہے، لیکن اگلی زندگی میں کسی عورت اور مرد کے لیے یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ اپنے ماضی کی کمیوں کی دوبارہ تلافی کر سکے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 574۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.