Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Maut ek yaad dahaani

Urdu · 7 min

موت ایک یاد دہانی ہے۔ ایک دن میں اپنے معاصرین، یعنی کنٹمپرریز، کے بارے میں سوچنے لگا: وہ افراد جو میرے زمانے میں پیدا ہوئے، جن کے ساتھ میں نے زندگی کا سفر طے کیا، جن کے ساتھ میں زمین پر چلتا پھرتا رہا۔ مسٹر اے کو میں نے زندہ حالت میں دیکھا تھا، مگر آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ مسٹر بی، مسٹر سی، مسٹر ڈی، مسٹر ای—سب کا یہی انجام ہو چکا ہے۔

اس طرح میں اپنے جاننے والوں میں سے ایک ایک شخص کو یاد کرتا رہا۔ مجھے یاد آیا کہ یہ سارے لوگ اب وفات پا چکے ہیں، یہاں تک کہ پچھلے دنوں مجھے خبر ملی کہ مسٹر وائی کی بھی وفات ہو گئی۔ میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔ میری زبان سے نکلا کہ میری باری بہت قریب آ گئی۔

The countdown has reached the last but one number. پھر میں نے سوچا کہ یہ معاملہ صرف میرا ذاتی معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی معاملہ ہر عورت اور مرد کا معاملہ ہے۔ ہر ایک روزانہ دیکھ رہا ہے کہ اس کے آس پاس کے لوگ مرتے جا رہے ہیں۔

میڈیا کے ذریعے ہر ایک، دور دور کے لوگوں کے بارے میں بھی، اسی طرح موت کی خبریں سنتا رہتا ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ کوئی شخص یہی بات خود اپنے بارے میں نہیں سوچتا۔ کوئی عورت یا مرد سنجیدگی کے ساتھ یہ غور نہیں کرتا کہ اسی طرح میں خود بھی بہت جلد مرنے والا ہوں۔ وہ موت سے پہلے کی زندگی کے مسائل کے بارے میں تو ہر وقت سوچتا ہے، لیکن موت کے بعد کے مسائل کے بارے میں کوئی غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

جاننے کے باوجود نہ جاننے کے اس عجیب ظاہرے کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد اپنے ڈی این اے سے کنٹرول ہوتا ہے۔ آدمی اپنا ہر چھوٹا یا بڑا کام ڈی این اے کی رہنمائی میں کرتا ہے۔ مگر یہاں معاملہ یہ ہے کہ زندگی کے بارے میں تو ہر ایک کے ڈی این اے میں سب کچھ تفصیل کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔

مگر ایک بات کسی کے ڈی این اے میں سرے سے درج نہیں، اور وہ موت یعنی ڈیتھ کا معاملہ ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کے تمام معاملات تو ڈی این اے کے کوڈ میں درج ہیں۔ انہی کی مسلسل طور پر ڈی کوڈنگ ہوتی رہتی ہے۔ مگر موت کا تعلق ڈی این اے سے نہیں۔

ہر ایک کی موت براہ راست طور پر خالق کے حکم سے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ایک کے لیے موت کا وقت الگ الگ ہے۔ لوگوں کی موت کا کوئی یکساں وقت نہیں۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ موت کے بارے میں خودشعوری، یعنی سیلف کانشسنس کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرے۔

وہ اس معاملے میں اپنے ڈی این اے سے باہر آ کر سوچے۔ ایسا کرنے کی صورت ہی میں آدمی موت کی حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ کرے گا۔ ایسا کرنے کی صورت ہی میں یہ ممکن ہوگا کہ وہ موت کے سنگین معاملے کو سمجھے۔ وہ موت سے پہلے کے دورِ حیات میں، موت کے بعد کے دورِ حیات کی تیاری کرے۔

انسان ایک ابدی مخلوق ہے۔ ڈی این اے اس ابدیت، یعنی ایٹرنٹی کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر خالق نے اپنے تخلیقی پلان کے مطابق انسان کی طویل زندگی کو دو دوروں میں بانٹ دیا ہے: موت سے پہلے کا دورِ حیات اور موت کے بعد کا دورِ حیات۔ اس تخلیقی پلان کے مطابق موت سے پہلے کا مختصر دورِ حیات امتحان، یعنی ٹیسٹ کے لیے ہے، اور موت کے بعد کا طویل تر دورِ حیات ٹیسٹ پیریڈ کے ریکارڈ کے مطابق اپنے عمل کا ابدی انجام پانے کے لیے۔

اس وقت تمام لوگ وقتی خوشی، یعنی رائٹ ہیر رائٹ ناؤ کے تصور کے تحت جی رہے ہیں۔ وہ حال رُخی، یعنی پریزنٹ اورینٹڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن اگر انہیں حقیقتِ واقعہ کا شعور ہو جائے تو ان کی زندگی کا نقشہ بالکل بدل جائے۔ اب آنے والا دن ان کا سب سے بڑا کنسرن بن جائے۔

ہر ایک مستقبل رُخی، یعنی فیوچر اورینٹڈ زندگی گزارنے لگے۔ حال رُخی زندگی تعمیرِ دنیا کے اصول پر قائم ہے، جبکہ مستقبل رُخی زندگی آخرت کے لیے تیاری کے اصول پر قائم ہوتی ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان لیں، وہی کامیاب ہیں، اور جو لوگ اس حقیقت سے بے خبر رہیں، وہی ناکام۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 572۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.