Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Zindagi ke us paar

Urdu · 3 min

زندگی کے اس پار، آدمی بظاہر ایک کامل وجود ہے، مگر حقیقت میں وہ صرف ایک ناقص وجود ہے۔ انسان کے پاس آنکھ ہے، مگر وہ خارجی روشنی کے بغیر دیکھ نہیں سکتا۔ انسان کے پاس کان ہیں، مگر خارجی ہوا کے بغیر وہ سن نہیں سکتا۔ انسان کے پاس چلنے کے لیے پاؤں ہیں، مگر زمین میں متوازن قوتِ کشش نہ ہو تو وہ چل نہیں سکتا۔

انسان کے پاس کھانے کے لیے منہ ہے، لیکن خارج میں غذا کا سامان نہ ہو تو وہ کھانے کی ضرورت پوری نہیں کر سکتا۔ اب ایک ایسے وقت کا تصور کیجیے جب کہ آپ پوری طرح اپنے اسی وجود کے ساتھ زندہ حالت میں ہوں، لیکن وہاں آپ کی ضرورت کے تمام خارجی سامان آپ سے چھن چکے ہوں۔ آپ کے پاس آنکھ ہو، مگر وہاں دیکھنے کے لیے خارجی روشنی موجود نہ ہو۔ آپ کے پاس منہ ہو، لیکن کھانے کی چیزیں وہاں سے غائب ہو چکی ہوں۔

آپ کے پاس پاؤں ہوں، مگر وہاں متوازن کشش والی زمین آپ کے پاؤں کے نیچے موجود نہ ہو۔ مزید یہ کہ وہاں آپ اکیلے ہو گئے ہوں، آپ کے تمام اپنے لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں۔ یہ کوئی فرضی بات نہیں، یہی صورتحال ہر عورت اور مرد کے ساتھ موت کے بعد پیش آنے والی ہے۔ اور موت ہر عورت اور مرد پر لازماً آنے والی ہے۔

کوئی بھی شخص جو آج زندہ ہے، وہ ضرور ایک دن مرے گا، اور پھر موت کے بعد وہ اپنے آپ کو جس دنیا میں پائے گا، وہ وہی دنیا ہوگی جس کا بیان اوپر کیا گیا۔ یہ آنے والا دن ہر ایک کی طرف دوڑا چلا آ رہا ہے۔ ہر عورت اور مرد کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ وہ اس آنے والے دن کو جانے، اور اس کے لیے تیاری کرے۔ وہ دن جب آئے گا تو وہ پوائنٹ آف نو ریٹرن کی سطح پر آئے گا۔

اس کے بعد آدمی کو صرف بھگتنا ہوگا، نہ کہ پیچھے لوٹ کر دوبارہ تیاری کرنا۔ پیدائش کے بعد ہی ہر عورت اور مرد کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جاتا ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ اس کا یہ کاؤنٹ ڈاؤن کب اپنے آخری نمبر پر پہنچ جائے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 571۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.