Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Marne walon ka tazkira

Urdu · 3 min

مرنے والوں کا تذکرہ: یہ ایک عام رواج ہے کہ جب کوئی شخص مرتا ہے تو اس کے بارے میں رسائل و جرائد میں مضامین شائع کیے جاتے ہیں، اس کی یاد میں تعریفی مضامین چھپتے ہیں، اس کی یاد میں شاندار جلسے کیے جاتے ہیں۔ ان سب میں یہ ہوتا ہے کہ مرنے والے کے کارنامے اور اس کی عظمتیں بیان کی جاتی ہیں۔ یہ طریقہ سخت مغالطہ انگیزی، یعنی misleading، کا ذریعہ ہے۔ کسی کی موت پر جو اصل واقعہ پیش آتا ہے وہ یہ ہے کہ مرنے والا اپنی عظمت کے تمام نشانات کو اچانک چھوڑ دیتا ہے۔

موت اس کو ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیتی ہے جہاں وہ بالکل تنہا اور بے سروسامان ہوتا ہے۔ حال یعنی present کے لحاظ سے مرنے والے کا اصل پہلو یہی ہوتا ہے۔ لیکن تمام لکھنے اور بولنے والے مرنے والے کے حال کا کوئی تذکرہ نہیں کرتے۔ وہ صرف اس کے ماضی، یعنی past، کو لے کر اس کی دنیاوی بڑائیاں بیان کرتے ہیں، حالانکہ مرنے والا عملاً اپنے اس ماضی سے مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہوتا ہے۔

موت کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ کسی انسان کے لیے انقطاع کلی، یعنی total detachment، کے ہم معنی ہوتی ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنی زندگی کے پہلے موقع، یعنی first chance، کو کھو دیا۔ اور جہاں تک دوسرے موقع، یعنی second chance، کا سوال ہے، وہ کبھی کسی کو ملنے والا نہیں۔ ہر مرنے والا دراصل زندگی کے اس سنگین پہلو کو یاد دلاتا ہے، لیکن یہی وہ پہلو ہے جس کا تذکرہ نہ تحریروں میں کیا جاتا ہے اور نہ تقریروں میں۔

مرنے والے کے فضائل و کمال کو پڑھ کر یا سن کر بظاہر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ وہ آج بھی انہی فضائل کا حامل ہے، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں۔ مقررین اور محررین جس انسان کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ ایک تاریخ ساز انسان تھا، عین ممکن ہے کہ اس وقت خود مرنے والے کا حال یہ ہو کہ وہ ایک بے تاریخ انسان بن کر حسرت و بے بسی کے عالم میں پڑا ہو۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 570۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.