Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Maut ka sabaq

Urdu · 5 min

موت کا سبق: میں ایک جنازے میں شریک ہوا، موت کے بعد مرنے والے شخص کو نہلایا گیا، اس کو نئے کپڑے کا کفن پہنایا گیا، لوگوں نے کھڑے ہو کر اس کی نمازِ جنازہ پڑھی، اور پھر وہ میت کو اپنے کاندھوں پر لے کر چلے، یہاں تک کہ قبر میں احترام کے ساتھ لٹا کر اس کو ڈھک دیا گیا۔ میں نے سوچا کہ ایک مردہ جسم کے ساتھ اتنے زیادہ اہتمام کا حکم اسلام نے کیوں دیا؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم مٹی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، مگر اس کو عام مٹی کی طرح ادھر ادھر پھینک نہیں دیا جاتا، بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ انسان کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔ مٹی کے ساتھ انسان جیسا معاملہ کرنے کا حکم مرنے والے کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ زندہ رہنے والے کے اعتبار سے ہے۔

مردہ انسان کے ذریعے زندہ انسانوں کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ بالآخر ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ زندہ لوگ مرنے والے کے روپ میں خود اپنے آپ کو دیکھیں، وہ موت سے پہلے موت کا تجربہ کریں۔ یہ تجربہ اس طرح بھی ممکن تھا کہ ایک مقرر دن میں کاغذ کا ایک انسانی پتلا بنایا جائے، اور اس کے ساتھ تمام رسوم ادا کر کے اس کو مٹی کے گڑھے میں ڈال دیا جائے۔ اسلام نے اس تجربے کو حقیقی بنانے کے لیے حقیقی انسان کے مردہ جسم کو استعمال کیا۔

ایک انسان ہماری طرح ایک زندہ انسان تھا، چلتے چلتے اس کے قدم جواب دے گئے، بولتے بولتے اس کی زبان بند ہو گئی، دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں بے نور ہو گئیں۔ لوگوں کے نزدیک اس کی جو قیمت تھی وہ سب اچانک ختم ہو گئی۔ اب خدا اس واقعے کو استعمال کرتا ہے تاکہ اپنے جیسے ایک انسان کے ذریعے وہ لوگوں کو زندگی کا سبق یاد دلائے۔ لوگ اس کو اہتمام کے ساتھ تیار کرتے ہیں اور پھر لے کر چلتے ہیں، یہاں تک کہ آخری مرحلے میں پہنچ کر جب اس کو قبر کے گڑھے میں لٹا دیا جاتا ہے تو ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ تین بار اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر قبر میں ڈالتا ہے۔

پہلی بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے "منہا خلقناکم" اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا تھا۔ جب وہ دوسری بار مٹی ڈالتا ہے تو کہتا ہے "وفيها نعيدكم" یعنی اسی میں ہم تم کو دوبارہ ڈال رہے ہیں۔ اور پھر تیسری بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے "ومنہا نخرجكم تارة أخرى" یعنی اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ یہ تین بار مٹی ڈالنا اس پورے معاملے کا کلائمکس ہے۔

اس طرح ایک زندہ واقعے کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ انسان کیا ہے اور اس کا آخری انجام کیا۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 569۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.