Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Maut ki aahat

Urdu · 4 min

موت کی آہٹ۔ جو شخص موت کے بارے میں حساس ہو، جو موت کو بہت زیادہ یاد کرے، ایسے شخص کو موت کی آہٹ پہلے سے معلوم ہو جاتی ہے۔ وہ مزید اضافے کے ساتھ موت کی تیاری میں لگ جاتا ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ یہ اللہ کی خاص نصرت ہوتی ہے۔

مگر جو لوگ موت سے غافل ہوں، جن کی زندگی موت کی یاد سے خالی ہو، ان کے ساتھ یہ حادثہ پیش آتا ہے کہ موت ان کو اچانک دبوچ لیتی ہے۔ اس کے بعد وہ ان کو زمین کے موافقِ حیات سیارے سے اٹھا کر ایک ایسے غیر موافق مقام پر پہنچا دیتی ہے جہاں سے واپسی ان کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ اب اچانک ان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس غیر موافق مقام پر ان کو ہمیشہ کے لیے رہنا ہے۔ وہ یہاں پکاریں گے، لیکن وہاں کوئی نہ ہوگا جو ان کی پکار پر دوڑے۔

وہ آنکھ کھول کر دیکھیں گے، لیکن وہاں کوئی قابلِ دید منظر ان کے دیکھنے کے لیے موجود نہ ہوگا۔ وہ روئیں گے اور تڑپیں گے، لیکن وہاں کوئی نہ ہوگا جو ان کے آنسو پوچھے اور ان کو تسکین دلائے۔ وہ بھاگنا چاہیں گے، لیکن وہاں کوئی منزل نہ ہوگی جدھر وہ بھاگ کر جا سکیں۔ وہ اپنے دائیں دیکھیں گے اور بائیں دیکھیں گے۔

وہ اپنے آگے دیکھیں گے اور پیچھے دیکھیں گے، لیکن ان لوگوں میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہ ہوگا جن کو دنیا میں وہ اپنا ساتھی سمجھتے تھے۔ وہ بھوک سے تڑپیں گے، لیکن وہاں ان کے لیے کھانے کا کوئی انتظام نہ ہوگا۔ وہ محسوس کریں گے کہ دنیا میں جو کچھ ان کے پاس تھا، وہ ان سے چھوٹ چکا۔ اب نئے مقام پر اس کا کوئی امکان نہیں کہ وہ دوبارہ اپنی ایک نئی دنیا بنا سکیں۔

یہ بھیانک صورتحال ہر عورت اور مرد کے سامنے آنے والی ہے۔ ہر عورت اور مرد اچانک ایک ایسے مقام پر پہنچنے والا ہے جہاں سے واپسی اس کے لیے ممکن نہ ہوگی۔ عقلمند انسان وہ ہے جو موت کے معاملے میں اتنا زیادہ حساس، یعنی سینسیٹو ہو کہ موت سے پہلے وہ اس کی آہٹ، یعنی انکلنگ، محسوس کر لے۔ وہ موت سے پہلے موت کی تیاری کر لے۔

کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 593۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.