Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Maut ka tasavvur

Urdu · 3 min

موت کا تصور، موت یعنی ڈیتھ کے لفظ کو اگر آپ ڈکشنری میں دیکھیں تو اس میں موت کا مطلب یہ لکھا ہوا ہوگا کہ زندگی کا ابدی خاتمہ، پرماننٹ سسیشن آف لائف۔ موت کی یہ لغوی تعریف موت کی منفی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ آدمی مکمل انسان کی حیثیت سے پیدا ہو، لیکن تھوڑی مدت تک زندہ رہ کر ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ ہو جائے۔ اس کی تمام آرزوئیں، یعنی ڈیزائرز، اور اس کی تمام صلاحیتیں اس طرح مٹ جائیں کہ دوبارہ ان کا وجود میں آنا ممکن نہ رہے۔

اسلام اس کے مقابلے میں زندگی کا مثبت تصور پیش کرتا ہے۔ اسلام کے مطابق موت زندگی کا خاتمہ نہیں۔ موت کا مطلب انسان کے لیے اس کے دوسرے دورِ حیات کا آغاز ہے۔ Death is not the end of life.

Death marks the beginning of the second phase of human life. اسلام کے مطابق انسان کو ابدی مخلوق، یعنی ایٹرنل بینگ، کے طور پر پیدا کیا گیا۔ پھر اس کے عرصۂ حیات، یعنی لائف اسپین، کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا: قبل از موت حصہ اور بعد از موت حصہ۔ قبل از موت عرصۂ حیات تیاری کی جگہ ہے، اور بعد از موت عرصۂ حیات تیاری کے مطابق اپنا مستقل انجام پانے کی جگہ۔

اس تخلیقی پلان کے مطابق آدمی کو چاہیے کہ وہ موت سے پہلے کی زندگی کو تیاری کا دور، یعنی پریپاریٹری پیریڈ، سمجھے اور اس کو کامل طور پر تیاری میں گزارے۔ کیونکہ موت کے بعد زندگی کا جو دور آدمی کے سامنے آئے گا، اس میں عمل کرنا نہ ہوگا، بلکہ صرف اپنے عمل کا انجام پانا ہوگا۔ موت کا واقعہ دراصل زندگی کا پیغام ہے۔ موت کا پیغام یہ ہے کہ جو کرنا ہے، اس کو آج کے دن کر لو، کیونکہ کل کے دن کرنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔

کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 566۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.