Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Zindagi ka khatima

Urdu · 3 min

"زندگی کا خاتمہ" 26 ستمبر 2008 کو نئی دہلی کے پارلیامنٹ اینیکسی میں ایک خصوصی پروگرام تھا۔ اس پروگرام کو نئی دہلی کے ایف اے این ایس، یعنی فاؤنڈیشن فار امیٹی اینڈ نیشنل سولیڈیرٹی، نے آرگنائز کیا تھا۔ اس کے صدر، لوک سبھا کے اسپیکر مسٹر سومناتھ چٹرجی تھے۔ اس موقع پر مشہور جرنلسٹ خشونت سنگھ، پیدائش 1915 کو، نیشنل ایمیٹی ایوارڈ دیا گیا۔

اسٹیج سے مسٹر خشونت سنگھ کے تعارف میں جو تقریر ہوئی، اس میں بتایا گیا کہ زندگی کے بارے میں مسٹر خشونت سنگھ کا نظریہ یہ ہے کہ "Enjoy good things in life. " مگر خود مسٹر خشونت سنگھ اسٹیج پر بیٹھے ہوئے اس نظریے کی زندہ تردید بنے ہوئے تھے۔ تقریباً 95 سال کی عمر کو پہنچ کر وہ بہت کمزور ہو چکے تھے۔ وہ جھک کر چلتے تھے، ان کے اوپر مایوسی چھائی ہوئی تھی، چہرے سے مسکراہٹ غائب تھی۔

یہ منظر دیکھ کر میں نے سوچا کہ انسان دنیا میں انجوائے کرنے کا نظریہ بناتا ہے، حالانکہ اس کے لیے مقدر ہے کہ وہ بہت جلد انجوائے کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ Enjoy good things in life only to become so weak that you are unable to enjoy anything. یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، یہی پوری تاریخ کی کہانی ہے۔ ہر زمانے میں انسان کا یہی حال ہوا ہے کہ وہ اپنے لیے خوشیوں کا ایک محل بنانا چاہتا ہے، لیکن آخر میں بڑھاپا آتا ہے اور اس کے سارے منصوبے کو ناکام کر دیتا ہے۔

یہاں انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ پر نظرِ ثانی کرے۔ لیکن انسان اپنی سوچ پر نظرِ ثانی نہیں کر پاتا، یہاں تک کہ مایوسی کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اگر وہ اپنی سوچ پر نظرِ ثانی کرے تو عین ممکن ہے کہ اس کی زندگی ٹریجڈی یعنی المیہ کے بجائے کامیڈی یعنی تربیت میں بدل جائے۔ اس کا خاتمہ امید پر ہو، نہ کہ ناامیدی پر۔

کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 567۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.