سانس کا کاروبار۔ دہلی میں ہمارے محلے میں ایک صاحب تھے، لوگ ان کو ملا جی کہتے تھے۔ وہ بھینس پالتے تھے اور دودھ کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کی دوستی ایک ہندو تاجر سے تھی۔
ان کے یہاں لوہے کا کاروبار تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ملا جی کی ایک بھینس مر گئی۔ وہ اپنے ہندو دوست سے ملے۔ اس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "میری ایک بھینس مر گئی"۔
یہ سن کر لوہے کے ہندو تاجر نے کہا کہ ملا جی، تمہارا تو سانس کا کاروبار ہے۔ آیا، آیا، نہ آیا۔ یعنی ایک بھینس صرف اس وقت تک زندہ ہے جب تک کہ اس کا سانس چل رہا ہے۔ سانس اگر رک جائے تو بھینس کی زندگی بھی ختم ہو جائے گی۔
مذکورہ تاجر نے یہ بات ملا جی کے کاروبار کے بارے میں کہی تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر زندہ انسان کا معاملہ یہی ہے۔ مذکورہ تاجر کو کہنا چاہیے تھا کہ ملا جی، ہمارا اور تمہارا معاملہ تو سانس کا معاملہ ہے۔ آیا، آیا، نہ آیا۔
جیسا کہ معلوم ہے، انسان کے جسم میں مختلف قسم کے نظام ہیں جو اس کی زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح انسان کے اندر ایک وہ نظام ہے جس کو نظامِ تنفس یعنی respiratory system کہا جاتا ہے۔ یہ نظام انسانی زندگی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ نظامِ تنفس جب تک کام کر رہا ہے، انسان زندہ ہے۔
یہ نظام اپنا کام نہ کرے تو انسان چند منٹ کے اندر مر جائے گا۔ کسی آدمی پر جب موت آتی ہے تو آخر وقت میں اس کی سانس اکھڑ جاتی ہے۔ اس حالت کو غرغرا کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کہ انسان کا نظامِ تنفس معتدل حالت میں اپنا کام کرنا بند کر دیتا ہے۔
اس وقت انسان کے گلے سے عجیب قسم کی آواز آنے لگتی ہے۔ چند منٹ تک یہ آواز آتی ہے۔ اس کے بعد انسان پر وہ حالت طاری ہو جاتی ہے جس کو موت کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے کی موت خود اپنی موت کی یاد دہانی ہے۔
ہر موت زندہ لوگوں کو بتاتی ہے کہ جس طرح مرنے والا مر گیا، اسی طرح زندہ رہنے والا بھی مرے گا۔ ہر موت یاد دلاتی ہے کہ اے لوگو، مستقبل کی تیاری کرو۔ کیونکہ آخر کار جو چیز تمہارے حصے میں آنے والی ہے، وہ تمہارا مستقبل ہے، نہ کہ تمہارا ماضی اور حال۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 565۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.