واپسی ممکن نہ ہو گی۔ آج کل کے لوگوں کو جب میں ہنستے ہوئے اور تفریح کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے ایک عجیب دھکا لگتا ہے۔ شدتِ احساس سے میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میں یہ سوچنے لگتا ہوں کہ کیسا عجیب انجام ان کے سامنے آنے والا ہے، لیکن وہ اس سے بے خبر ہو کر قہقہہ لگا رہے ہیں۔
وہ جلد ہی ایک بھیانک انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ وہ اس انجام سے اپنے آپ کو ہرگز بچا نہیں سکتے۔ لیکن اس سے کامل بے خبری کی بنا پر وہ قہقہہ لگا رہے ہیں۔ حالانکہ ضرورت یہ تھی کہ وہ چپ ہو جائیں اور آنے والے بھیانک انجام سے بچنے کی تدبیر کریں۔
یہ انجام موت ہے۔ ہر آدمی جو پیدا ہوا ہے، اس کو بہرحال مرنا ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے آپ کو موت سے نہیں بچا سکتا، اور نہ وہ اس پر قادر ہے کہ وہ اپنے آپ کو زندگی سے محروم کر لے۔ پیدا ہونے کے بعد ہر آدمی ابدی ہو چکا ہے۔
ہر آدمی کو بہرحال جینا ہے، حتیٰ کہ موت کے بعد بھی۔ موت کے بعد اچانک ہر آدمی اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ اس اگلی دنیا میں آدمی اس حال میں پہنچے گا کہ اس کے پاس موجودہ دنیا کی طرف دوبارہ آنے کے لیے ریٹرن ٹکٹ نہ ہو گا۔ موجودہ دنیا عمل کی دنیا ہے۔
یہاں کوئی جزا نہیں۔ اگلی دنیا جزا کی دنیا ہو گی۔ وہاں کسی کے لیے عمل کا موقع نہ ہو گا۔ یہ ہر عورت اور ہر مرد کا مقدر ہے۔
کوئی بھی شخص اپنی اس تقدیر کو بدل نہیں سکتا۔ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے ہم کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ پیدا کرنے والے کا تخلیقی پلان، یعنی کریشن پلان، کیا ہے؟ پیدا کرنے والے نے یہ عجیب و غریب دنیا کیوں بنائی؟ اور اس کے اندر انوکھی صلاحیتوں والا انسان کس لیے بسایا؟
لوگوں کی موجودہ بے خبری اس تخلیقی پلان کو نہ جاننے کی بنا پر ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی اور انجام ان کے سامنے آنے والا نہیں۔ اگر انسان یہ جانے کہ وہ ایک لمبے سفر کا مسافر ہے، اس کو موجودہ دنیا سے گزر کر آخرت کی دنیا میں داخل ہونا ہے، تو اس کی زندگی کا سارا نقشہ بدل جائے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 556۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.