← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Break in history
Urdu · 7 min
Break in history: گورنمنٹ سروس کے قاعدوں میں سے ایک قاعدہ یہ ہے کہ اگر کوئی سرکاری ملازم بغیر رخصت، یعنی without an approved leave، دفتر میں حاضر نہ ہو تو گورنمنٹ کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اس کو شکستِ ملازمت یعنی break in service کا کیس قرار دے دے۔ شکستِ ملازمت کا مطلب یہ ہے کہ اس کی seniority ختم ہو جائے گی، وہ حقوقِ ملازمت کے اعتبار سے واپس ہو کر اپنے پہلے دن کے حال پر پہنچ جائے گا، جبکہ اس کا تقرر ہوا تھا اس کے لیے ملازمت کے پچھلے ایام کے اعتبار سے پروموشن کا حق باقی نہ رہے گا۔ A break in service is any separation from employment status یہ اصول زیادہ بڑے پیمانے پر ہر عورت اور مرد پر منطبق ہوتا ہے۔ اس دوسرے عمومی اصول کو شکستِ تاریخ یعنی break in history کہا جا سکتا ہے، یعنی تاریخ کا ختم ہو جانا۔
کسی آدمی نے اپنے عمل سے اپنی جو تاریخ بنائی ہے، اس کا اچانک مٹ جانا، اور انسان کا اپنے بے تاریخ دور کی طرف لوٹ جانا۔ اس دنیا میں ہر آدمی اپنی بنائی ہوئی تاریخ کی بنا پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایک انسان یہاں پیدا ہوتا ہے، اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے بڑا ہوتا ہے، اس کو مختلف قسم کے مواقع ملتے ہیں جن کو استعمال کر کے وہ اپنی ایک تاریخ بناتا ہے۔ گھر اور جائیداد اور خاندان اور حلقہ اور شہرت اور اقتدار اور مال اور اسباب وغیرہ، اس قسم کی چیزیں اس کے گرد اکٹھا ہو جاتی ہیں۔
اس طرح اس کی اپنی بنائی ہوئی ایک تاریخ ہوتی ہے جس کے ذریعے اس کا تشخص قائم ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو جانتا ہے، اور اس کے ذریعے دوسرے لوگ اس کو پہچانتے ہیں۔ یہ معاملہ ہر عورت اور مرد کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ہر ایک مسلسل جدوجہد کے ذریعے اپنی ایک تاریخ بناتا ہے جس کے اوپر وہ کھڑا ہوتا ہے۔
لیکن کوئی بھی شخص لمبی مدت تک اپنی تاریخ میں جینے کا موقع نہیں پاتا۔ سو سال کے اندر ہی اچانک وہ لمحہ آ جاتا ہے جس کو موت کہتے ہیں۔ موت ایک ناقابلِ واپسی فیصلے کے طور پر ہر شخص کے اوپر آتی ہے، اور اچانک قبل از موت مرحلہ حیات سے جدا کر کے اس کو بعد از موت مرحلہ حیات میں پہنچا دیتی ہے۔ موت کو اس اعتبار سے شکستِ تاریخ یعنی break in history کا معاملہ کہا جا سکتا ہے۔
شکستِ تاریخ کا یہ واقعہ ہر عورت اور ہر مرد کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ہر عورت اور مرد کا یہ معاملہ ہے کہ وہ اپنی ساری طاقت خرچ کر کے اپنی امیدوں اور اپنی تمناؤں کی ایک دنیا بناتے ہیں۔ ہر انسان اپنی بنائی ہوئی اس دنیا میں جی رہا ہوتا ہے کہ اچانک اس کے لیے موت کا وقت آ جاتا ہے۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس بنائی ہوئی دنیا کو چھوڑ کر اچانک ایک اور دنیا میں پہنچ جائے، جس کے لیے اس نے کچھ نہیں کیا تھا۔
اس کے پیچھے اس کی بنائی ہوئی دنیا ہوتی ہے جس کو وہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ چکا، اور اس کے آگے ایک ابدی صحرا ہوتا ہے جس کے لیے اس نے کچھ نہیں کیا۔ یافت کے احساس میں جینے والا انسان اچانک کامل محرومی کے دور میں داخل ہو جاتا ہے۔ قبل از موت کا مرحلہ حیات ہر انسان کے لیے پہلا اور آخری موقع ہے۔ اس کے بعد کسی کو دوسرا موقع ملنے والا نہیں۔
اس پہلے موقع کو جس شخص نے صرف دنیاوی ساز و سامان کی فراہمی میں لگایا، وہ موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں کامل محرومی میں جینے پر مجبور ہوگا، کیونکہ موت اس کی پچھلی تاریخ کو اس سے جدا کر دے گی اور موت کے بعد دوبارہ نئی تاریخ بنانے کا موقع اس سے ہمیشہ کے لیے چھن چکا ہوگا۔ کیسا عجیب ہے آج کا وہ موقع جس کو انسان کھو رہا ہے، اور کیسی بھیانک ہوگی کل کی وہ محرومی جس سے انسان دوچار ہوگا اور جس سے اپنے آپ کو بچانا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 554۔