Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Maut se pahle,Maut ke bad

Urdu · 4 min

موت سے پہلے، موت کے بعد، پوری انسانی تاریخ میں انسان جس سب سے بڑی فراموشی میں مبتلا رہا ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ موت کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں انسان کی غفلت کا یہ عالم ہے کہ مشکل سے چند ایسے افراد دریافت کیے جا سکتے ہیں جو اس معاملے میں فراموشی کا شکار نہ ہوں۔ موجودہ دنیا دارالامتحان یعنی ٹیسٹنگ گراؤنڈ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ سب کا سب سامانِ امتحان کے طور پر ملا ہوا ہے۔ موت اس مدتِ امتحان کو ختم کرتی ہے، اس لیے موت کے آتے ہی ہر انسان سے وہ تمام چیزیں اچانک چھن جائیں گی جو اس کو یہاں امتحان کے طور پر ملی ہوئی تھیں۔

موت کے بعد آدمی اچانک ایک نئی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ دنیا اپنے عمل کے نتائج پانے کی دنیا ہے۔ موت سے پہلے آدمی اگر سامانِ امتحان میں جی رہا تھا، تو موت کے بعد اس کو اپنے عمل کے نتائج کے درمیان جینا پڑے گا۔ موت سے پہلے کی زندگی عارضی زندگی ہے، یعنی بمشکل سو سال۔

لیکن موت کے بعد کی زندگی ابدی زندگی ہے، اس کا کبھی خاتمہ ہونے والا نہیں۔ موت سے پہلے کی زندگی میں انسان کو بے شمار چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ یہ تمام چیزیں پیدا ہوتے ہی اس کو اپنے آپ حاصل ہو جاتی ہیں۔ اس لیے آدمی ان چیزوں کو for granted طور پر لیتا رہتا ہے۔

وہ سوچ نہیں پاتا کہ یہ تمام عطیات اچانک اس سے منقطع ہو جائیں گے۔ موت کے بعد آدمی اچانک اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا کہ وہ بالکل تنہا اور بے سہارا ہو گیا۔ اس سنگین حقیقت کے بارے میں سوچنا انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن آدمی بے فکری کی حالت میں پڑا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اچانک مر کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔

وہ اس حدیثِ رسول کا مصداق بن جاتا ہے: «ما رأيت مثل النار نامحاربها وما رأيت مثل الجنة نامطالبها» الترمذی، کتاب صفتِ جہنم۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 553۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.