موت کا زندہ تصور۔ 31 جنوری 2010 کو میرے چھوٹے بھائی عبدالمحیط خاں، انجینئر، کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت وہ فیض آباد، یو پی میں تھے۔ ان کی عمر تقریباً 75 سال تھی۔
میں نے اپنی لمبی عمر میں ہزاروں افراد کو مرتے ہوئے دیکھا ہے، یا ان کی موت کی خبر سنی ہے۔ لیکن میرے بھائی کی موت میرے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔ اس نے میرے اندر ایک نیا تصور پیدا کیا: اس کو اگر میں کوئی نام دوں تو میں کہوں گا کہ "موت کا زندہ تصور"، یعنی Living Concept of Death۔ میں نے غور کیا کہ موت کے بارے میں یہ نیا شعور میرے اندر کیوں پیدا ہوا۔
اصل یہ ہے کہ ہم لوگ 6 بھائی بہن تھے۔ چھوٹے بھائی کے انتقال کے بعد مجھے اچانک محسوس ہوا کہ میرے سوا تمام بھائی بہن مر چکے۔ اس اعتبار سے اب میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ اس احساس سے مجھے سخت جھٹکا لگا۔
میں نے سوچا کہ میرے بھائی اور بہن کل تک اسی دنیا میں تھے جہاں کہ میں ہوں، لیکن اب وہ ایک ایک کر کے مر چکے۔ یہاں تک کہ 6 بہن بھائیوں میں اب میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ وہ لوگ اس دنیا سے نکل کر ایک اور دنیا میں پہنچ چکے۔ اب نہ وہ مجھ سے مل سکتے اور نہ میں ان سے مل سکتا۔
موت نے مجھ کو اپنے تمام بھائی بہنوں سے ابدی طور پر جدا کر دیا۔ موت کیا ہے؟ موت ایک جبری انخلا، یعنی Compulsory Expulsion۔ Compulsory Expulsion کا معاملہ ہے۔
موت کیا ہے؟ موت ایک جبری انخلا، یعنی Compulsory Expulsion کا معاملہ ہے۔ موجودہ زندگی میں ہر آدمی اپنے لیے ایک دنیا بناتا ہے: گھر، جائیداد، بزنس، اولاد، تعلقات، شہرت، عوامی حلقہ، عہدہ، سماجی پوزیشن وغیرہ۔ ان تمام چیزوں کی بنیاد پر ہر آدمی کی اپنی ایک چھوٹی یا بڑی دنیا ہوتی ہے، جس کے اندر وہ اپنے صبح و شام گزارتا ہے۔
وہ اس کو اپنی دنیا سمجھتا ہے۔ لیکن اچانک موت کا وقت آ جاتا ہے، اور فرشتے اس کو جبری طور پر موجودہ دنیا سے نکال کر اس دنیا میں پہنچا دیتے ہیں جہاں اس کے پاس اپنے ذاتی وجود کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔ موت کے واقعے کو صرف وہ شخص جانتا ہے جو اس حقیقت کا زندہ شعور رکھتا ہو۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 552۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.