موت سہار یوپی کے ایک گاؤں کا واقعہ ہے، یہاں کسی قسم کی کوئی ترقی موجود نہ تھی۔ 1947 سے پہلے کی بات ہے، یہاں کے ایک زمیندار کے گھر میں پہلی بار ہینڈ پمپ لگایا گیا۔ گاؤں کے لوگوں نے دیکھا کہ جب اس کو چلایا جاتا ہے تو اس سے پانی نکلنے لگتا ہے۔ یہ دیکھ کر دلت خاندان کی ایک بوڑھی عورت نے تعجب سے کہا: "منع موتیا سے ہارا ہے"، یعنی آدمی صرف موت سے ہارا ہے۔
گاؤں کی اس بوڑھی خاتون کے لیے ہینڈ پمپ بہت بڑی چیز تھی، اس لیے اس نے ایسا کہا۔ لیکن یہی بات دوسری تمام ترقیوں کی نسبت سے بھی درست ہے۔ انسان بڑی بڑی ترقیاں کرتا ہے، وہ بادشاہت قائم کرتا ہے، وہ دولت کے انبار اکٹھا کرتا ہے، وہ خشکی پر کار دوڑاتا ہے، وہ سمندروں میں جہاز چلاتا ہے، وہ فضا میں ہوائی جہاز اڑاتا ہے، وہ بڑی بڑی صنعتیں قائم کرتا ہے، وہ عالمی کمیونیکیشن کے طریقے ایجاد کرتا ہے، وہ نہایت اونچی عمارتیں یعنی سکائی سکراپر کھڑی کرتا ہے وغیرہ۔ موت کے مقابلے میں ہر ایک کے لیے شکست مقدر ہے۔
کسی کا عہدہ، کسی کی مقبولیت، کسی کی دولت، کسی کا اقتدار، غرض کسی کی کوئی چیز اس کو موت سے بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔ ہر پیدا ہونے والے مرد اور عورت کا یہ انجام ہوتا ہے کہ وہ مجبور ہو کر موت کے فیصلے کو قبول کرتا ہے۔ ہر آدمی کچھ مدت تک زمین کے اوپر چلتا ہے، پھر اس کو موت آ جاتی ہے، اور اس کو قبر کے گڑھے میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ یہ انجام ہر عورت اور مرد کے لیے مقدر ہے۔
اس معاملے میں کسی بھی شخص کا کوئی استثنا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کا سوال سب سے بڑا سوال ہے، جس پر ہر زندہ انسان کو سوچنا چاہیے۔ موت کا مسئلہ وہ سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کی حقیقت جاننے کے لیے اپنے ساری توانائی لگا دینا ہے۔ موت کا مسئلہ وہ سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کی حقیقت جاننے کے لیے اپنی ساری توانائی لگا دینا چاہیے۔
جو لوگ موت کو نہ جانیں، وہ یقینی طور پر زندگی کو بھی نہیں جانتے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 547۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.