مستقبل سے بے خبر: اس زمانے میں ہر آدمی کا کیس صرف ایک ہے، حال یعنی present سے باخبر اور مستقبل یعنی future سے بے خبر۔ انہی دو لفظوں میں آج کے تمام انسانوں کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔ اس میں مذہبی انسان اور غیر مذہبی انسان کا کوئی فرق نہیں۔ یہ صورتحال اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک نئی صورتحال ہے۔
پچھلے زمانوں میں بھی انسان عاجلہ پسند ہوتا تھا، لیکن پچھلے زمانے کے انسان کی عاجلہ پسندی محدود درجے میں ہوا کرتی تھی۔ موجودہ زمانے میں جو نئے اسباب پیدا ہوئے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ صرف ایک چیز ہر آدمی کا نشانہ بن گیا ہے۔ ہر آدمی اپنی ساری توانائی مال کے حصول میں لگا دیتا ہے، پھر اچانک اس کی موت آ جاتی ہے۔ وہ اپنی ساری کمائی کو چھوڑ کر ایک نامعلوم منزل کی طرف چلا جاتا ہے۔
یہی نامعلوم منزل ہر انسان کا مستقبل ہے۔ لیکن کسی عورت یا مرد کو اس مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔ انسان کو دو قسم کے مستقبل یعنی future کا سامنا کرنا پڑتا ہے: ایک قریبی مستقبل۔ قریبی مستقبل کا تعلق موت سے پہلے والی زندگی سے ہے، اور دوسرا بعید مستقبل۔
بعید مستقبل کا تعلق اس زندگی سے ہے جو موت کے بعد سامنے آنے والی ہے۔ قریبی مستقبل کا سوال ایک عارضی سوال ہے، لیکن بعید مستقبل کا سوال ایک ابدی سوال۔ حدیث میں آیا ہے کہ "من أحب دنیاه أكثر بآخرته ومن أحب آخرته أضر بدنیاه فآثروا ما يبقى على ما يفنى" رواہ احمد والبیہقی، بحوالہ مشکات المصابیح، رقم الحدیث 5179۔ یعنی جو شخص دنیا سے محبت کرے گا، وہ اپنی آخرت کا نقصان کرے گا۔
اور جو شخص اپنی آخرت سے محبت کرے گا، وہ اپنی دنیا کا نقصان کرے گا۔ تم فنا ہونے والی چیز پر باقی رہنے والی چیز کو ترجیح دو۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی ترجیح یعنی priority کا نام ہے۔ صحیح ترجیح آدمی کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے، اور غلط ترجیح ہمیشہ ناکامی کی طرف۔
کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 548۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.