تربیہ یا علمیہ؟ پنڈت جواہر لال نہرو، وفات 1964، ایک دولت مند باپ کے بیٹے تھے، چنانچہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نہرو اپنے منہ میں چاندی کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے تھے۔ Nehru was born with a silver spoon in his mouth. جواہر لال نہرو کو اپنی زندگی میں بہت زیادہ شہرت اور کامیابی حاصل ہوئی، لیکن 1962 کے حادثے کے بعد وہ سخت مایوسی کا شکار ہوئے، اور اسی حال میں صرف 75 سال کی عمر میں وہ اچانک مر گئے۔
وہ اس دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ ان کے اپنے مادی وجود کے سوا تمام دوسری چیزیں ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھیں۔ یہی کم و بیش ہر پیدا ہونے والے انسان کا حال ہے، ہر ایک گویا کہ چاندی کے چمچے کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، اور پھر جلد ہی ایک عاجز اور مجبور انسان کی حیثیت سے وہ اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ Everyone is born with a silver spoon in his mouth, but everyone dies helplessly without any spoon in his mouth. انسانی زندگی کا یہ سب سے بڑا علمیہ ہے جس کے بارے میں ہر عورت اور مرد کو سوچنا چاہیے۔
ہر آدمی کا کیس عملاً صرف ایک ہے: کامیاب زندگی، ناکام موت، امیدوں کے ساتھ آغاز، مایوسی کے ساتھ خاتمہ۔ ہر عورت اور مرد کی کہانی ایک ایسی کہانی ہے جو اپنے آغاز میں تربیہ یعنی کامیڈی ہے، اور اپنے انجام میں صرف علمیہ یعنی ٹریجڈی۔ اس دنیا میں کامیاب انسان وہ ہے جو اس حقیقت کو جانے، اور اس حقیقت کے گہرے شعور کے ساتھ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ یہی موجودہ دنیا میں کسی عورت یا کسی مرد کی کامیابی کا راز ہے۔
یہی وہ معیار ہے جس پر کسی انسان کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کیا جائے گا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 546۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.