Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Khushgawar aaghaaz,Dardnaak anjaam

Urdu · 3 min

خوشگوار آغاز، دردناک انجام۔ ایک مسلمان نے محنت سے تعلیم حاصل کی، انہوں نے ایک مشہور کالج سے قانون کی ڈگری لی۔ اس کے بعد انہوں نے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کا کورس امتیازی نمبر کے ساتھ پاس کیا۔ جلد ہی بعد ان کو ایک پیٹروڈالر والے ملک میں چیف اکاؤنٹنٹ کا عہدہ مل گیا۔

وہاں انہوں نے کافی پیسہ کمایا۔ اس کے بعد وہ اپنے ملک میں واپس آ گئے۔ یہاں کے ایک بڑے شہر میں انہوں نے بلڈر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ انہوں نے کافی دولت کمائی اور کئی پراپرٹی بنائی۔

وہ قرآن کے الفاظ میں اسی تکاثر میں ہمہ تن مشغول تھے کہ صرف 65 سال کی عمر میں اچانک ان کا انتقال ہو گیا۔ اچانک وہ خالی ہاتھ اس دنیا سے چلے گئے۔ اس واقعے کو سن کر میں نے سوچا کہ موجودہ زمانے میں کم و بیش ہر آدمی کا یہی کیس ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی ہارڈ لائف جیتا ہے اور پیسہ کماتا ہے صرف اس لیے کہ وہ اپنے نااہل بچوں کو ایزی منی دے کر اس دنیا سے چلا جائے۔

یہ گویا ایک خوشگوار آغاز کا ایک دردناک انجام ہے۔ ہر آدمی کم و بیش اس کی ایک مثال ہے۔ جاہل اور عالم، مذہبی اور غیر مذہبی، تقریباً سب کا کیس یہی ہے۔ ہر آدمی بظاہر اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے۔

لیکن موت ہر آدمی کے لیے یہ سبق لے کر آتی ہے کہ تم صرف ایک محروم انسان ہو۔ اس صورتحال نے ہر آدمی کے کیس کو کامیابی سے محرومی کی طرف سفر کا کیس بنا دیا ہے۔ یہ اندوہناک صورتحال اس لیے جاری ہے کہ مرنے والا دوبارہ لوٹ کر اس دنیا میں نہیں آتا تاکہ وہ لوگوں کو زندگی اور موت کی حقیقت سے باخبر کرائے۔ مرنے کے بعد انسان حقیقت سے باخبر ہو جاتا ہے۔

مگر یہ باخبر انسان دوبارہ دنیا کی طرف نہیں لوٹتا۔ زندہ انسان حقیقت سے بے خبر ہے۔ اور یہ بے خبر انسان مرنے والوں سے پوچھ کر حقیقت کو دریافت نہیں کر سکتا۔ انسانی تاریخ اس دو طرفہ محرومی کا دوسرا نام ہے۔

کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 545۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.