عجیب بھول۔ جج نے ملزم کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا، "کل صبح 6 بجے تم کو پھانسی دے دی جائے گی۔ " ملزم اس کو سن کر زور زور سے ہنسنے لگا۔ جج نے پوچھا، "تم کیوں ہنس رہے ہو؟
" ملزم نے جواب دیا، "جناب، میں تو صبح 8 بجے تک سوتا رہتا ہوں۔ " یہ ایک لطیفہ ہے، لیکن عملاً تمام لوگ اسی طرح کی خود ساختہ سوچ میں مبتلا ہیں۔ عورت بھی اور مرد بھی، غریب بھی اور امیر بھی، بوڑھے بھی اور جوان بھی۔ لوگوں کی یہی عجیب سوچ موت کے بارے میں ہے۔
ہر روز اور ہر جگہ لوگ مر رہے ہیں۔ ہر آدمی دیکھتا ہے کہ کل ایک شخص زندہ موجود تھا، اور آج وہ مر کر اس دنیا سے چلا گیا۔ اس قسم کے واقعات ہر آدمی کو ہر روز یاد دلاتے ہیں کہ کل 6 بجے تمہارا وقت آ سکتا ہے۔ لیکن ہر آدمی مذکورہ ملزم کی طرح اس نفسیات میں جی رہا ہے کہ "میں تو 8 بجے تک سوتا ہوں، پھر موت کا فرشتہ مجھ کو کہاں پائے گا جو میری روح قبض کرے؟
" ہر آدمی کسی نہ کسی محفوظ قلعے میں جی رہا ہے۔ کوئی شخص اپنی فیملی میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے، کوئی اپنی شہرت کو، کوئی شخص اپنی دولت کو، اور کوئی اپنے عہدے کو اپنے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھے ہوئے ہے۔ ہر ایک شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا ہے کہ "میں اتنا زیادہ دور ہوں کہ موت کے فرشتے کی رسائی وہاں تک ہونے والی نہیں۔ " اسی خود ساختہ نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی شخص اپنی موت کے بارے میں نہیں سوچتا، کسی مجلس میں موت کا تذکرہ نہیں ہوتا، کوئی شخص موت کے تصور سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔
کسی کا یہ حال نہیں کہ موت کے تصور نے اس کی لذتوں کو ڈھا دیا ہو، موت کے تصور نے اس کے عیش کو مقدر کر دیا ہو۔ کسی پر یہ حالت نہیں گزرتی کہ موت کی یاد اس کے دن کے چین کو چھین لے، اور موت کی یاد اس کی رات کی نیند کو ختم کر دے۔ موت کا تصور سب سے بڑا انقلابی تصور ہے۔ لیکن کوئی شخص موت کی یاد میں جینے والا نہیں۔
اس لیے کسی آدمی کی زندگی میں انقلاب بھی برپا نہیں ہوتا۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 544۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.